استدؔ لال ازروئے علم منطق مولوی صاحب نے اس مباحثہ میں علم منطق سے بھی کام نہیں لیا اور نہ شکل اول بدیہی الانتاج سے ایک دو سطر میں فیصلہ ہوجاتا۔ مگر یاد رہے کہ میں مدعی نہیں ہوں بلکہ ناقض اور معارض ہوں۔ بطور نمونہ کے تقریر اس کی یہ ہے۔ عیسٰی بن مریم کان نبیامن الناس ومات الناس حتَّی الانبیاء یعنی کلہم ماتو افعیسَی بن مریم ایضًا مات مقدمہ صغریٰ تو مسلّم ہی ہے اور مقدمہ کبریٰ ایسا مشہور ہے کہ اطفال مکتب لفظ حتّٰی کی مثال میں پڑھا کرتے ہیں۔ پس وہ بھی مسلّم ہے۔ اور اگر مسلّم نہ ہو تو آیت قرآن مجید موجود ہے۔ ۶پ۴ ۱؂ وغیر ذٰلک من الآیات تنبیہ جامع مسجدوں میں اثناء خطب منظومہ اردو میں ائمہ مساجد پڑھا کرتے ہیں ۔ ؂ آدمؑ کہاں حواؑ کہاں مریمؑ کہاں عیسٰی ؑ کہاں ہارونؑ اور موسیؑ کہاں اس بات کا ہے سب کو غم ایضاً حضرت آدمؑ نبی نیچے زمیں کے چل بسے نوحؑ کشتی بان عالم بھی یہاں سے چل بسے یوسف ؑ و یعقوبؑ و اسماعیل ؑ و اسحقؑ و خلیل ؑ اور سلیمانؑ آسمانی مہر والے چل بسے ہودؑ اور ادریس ؑ و یونس ؑ شیثؑ و ایوبؑ و شعیبؑ دعوت اسلام کر کے ٹھہرے چندے چل بسے حضرت عیسیٰ ؑ نبی داؤد ؑ و موسیٰ ؑ خاک میں لے کے توریت و زبور انجیل حق سے چل بسے واسطے جن کے زمین و آسمان پیدا ہوا جنت الفردوس میں وہ حق کے پیارے چل بسے الٰی آخر ما قال۔ استدلال ازروئے علم بلاغت اس علم کی طرف بھی مولوی صاحب نے رخ تک نہیں کیا ورنہ بہت آسانی سے فیصلہ ہوسکتا تھا مطول اور اس کے حواشی میں لکھا ہے وتقدیم المسند الیہ للدلالۃ علی انّ المطلوب انماھو اتصاف المسند الیہ بالمسند علی الاستمرار لامجرد الاخبار بصدورہ عنہ کقولک الزاھد یشرب و یعزب دلالۃ علے انہ یصدر الفعل عنہ حالۃ فحالۃ علی سبیل الاستمرار قال السید السند علی قول العلامۃ۔ انّما یدلّ علیہ الفعل