عنؔ ابن عباس أَعنی مُمیتک کے بطور عبارت النص کی ثابت ہے اور مولوی صاحب اگر تمام توغل اپنا جو علم اصول میں ان کو ہے صرف فرماویں گے تو اس کا نتیجہ شائد اس قدر حاصل ہو کہ حیات عیسیٰ بن مریم آیت ۱؂سے بطور اشارۃ النص کے ثابت کی جاوے لیکن یہ مسئلہ تمام کتب میں مندرج ہے کہ ترجح العبارۃ علی الاشارۃ وقت التعارض پس وفات ثابت رہی۔ اور حیات ساقط الاعتبار ٹھہری اور مباحثہ ختم ہوا۔ طرز دوم ازروئے علم اصول فقہ دوسرے طور پر آیت انّی متوفّیک حسب روایت صحیح بخاری کے وفات عیسیٰ ابن مریم میں محکم ہے۔ کیونکہ تعریف محکم کی کتب اصول فقہ اور نیز حضرت نواب صاحب بہادر مرحوم و مغفور نے حصول المامول وغیرہ میں یہ لکھی ہے المحکم مالہ دلالۃ واضحۃ اور بفرض تسلیم لفظ قبل موتہٖ حیات مسیح پر اگر دلالت بھی کرے تو یہ دلالت واضح نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں ضمائر وغیرہ ذوالوجوہ ہیں اور روایتاً و درایتاً مفسرین کا ان میں بہت سا کچھ اختلاف ہے اور اسی کو متشابہ کہتے ہیں۔ پس یہ لفظ متشابہ ہوا۔ اسی حصول المامول میں لکھا ہے والمتشابہ مالہ دلالۃ غیر واضحۃ اب ظاہر ہے کہ ہوتے محکم کے متشابہ کی طرف کیونکر رجوع ہوسکتا ہیلقولہٖ سبحانہٖ تعالی ۲؂ اسی طرح پر اگر دیگر قواعد علم اصول کی طرف رجوع کیا جاوے تو مباحثہ چار پانچ سطروں میں ختم ہوسکتا ہے مگر آپ احقر کو اس تقریر سے مدعی نہ قرار دے لیویں یہ تقریر تو بطور نقض یا معارضہ کے عرض کی گئی ہے اور یہی سائل کا منصب ہے۔ طرز استدلال از روئے اصول حدیث مولوی صاحب نے اس علم کی طرف بھی توجہ نہیں فرمائی ورنہ چار پانچ سطروں میں فیصلہ ہوجاتا تقریر اس کی بطور نمونہ مجملاً یہ ہے کہ صحیحین کی حدیثوں سے جو ازا لۃ الاوہام میں لکھی ہیں وفات عیسیٰ بن مریم ثابت ہوتی ہے اور اگر بعض روایات مرسل یا ضعیف وغیرہ سے حیات مسیح بن مریم ثابت کی جاوے تو اس کو علم اصول حدیث کب تسلیم کرے گا۔ وہ تو بآواز بلند پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ احادیث متفق علیہا جملہ احادیث پر مقدم ہیں۔ پس وقت تعارض کے احادیث متفق علیہا جملہ احادیث پر مقدم رہیں گی۔ وھو المطلوب۔