شانؔ سے بعید تھے۔ اور طرز استدلال کی نسبت فرمایا کہ یہ وہی طرز ہے جو مباحثہ دہلی کا تھا احقر نے اس عنایت نامہ حال کو تین نوٹ بدیں خلاصہ مضمون دے کر بجنسہا واپس کردیا۔ خلاصہ مضمون نوٹ اول الفاظ خلاف تہذیب کے خطوط احقر اور جناب کی تحریر میں آنا مناسب نہیں ورنہ مباحثہ نہ ہوگا۔ خلاصہ مضمون نوٹ دوم اس تحریر کا مقابلہ اصل مباحثہ سے کرادیا جاوے۔ خلاصہ مضمون نوٹ سوم کل ادلّہ حیات مسیح اس تحریر میں جمع کردی جاویں۔ بار بار ایک دعو ٰے پر وقتاً فوقتاً متفرق ادلّہ کا پیش کرنا کچھ ضرور نہیں ہے ہاں فریقین کو اختیار ہے کہ جب تک چاہیں نقص و جرح ادلّہ میں یا تائید ان کی میں وقتاً فوقتاً تحریر کریں۔ اس کا جواب آج کی تاریخ تک مولوی صاحب کی طرف سے صادر نہیں ہوا لہٰذا بعد انتظار بسیار احقر اب اس وعدہ کا ایفا کرتا ہے جو آغاز اخلاص نامہ میں نسبت تعمیر ؂ (اینکہ می بینم بہ بیداریست یارب یابخواب) کے کیا گیا تھا۔ تعبیر تعبیر اس کی یہ ہے کہ مولوی صاحب کو مباحثہ دہلی میں فتح اور کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ جیسا کہ مشہور کررکھا ہے۔ بلکہ ناکامی ہوئی ہے جس کو احقر بعونہ ٖ تعالیٰ ناظرین کو ثابت کردکھاوے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ ناظرین کو مباحثہ کے معائنہ سے واضح ہوا ہوگا کہ جن علوم رسمیہ کی اعانت سے علماء ظاہر ایسے مسائل میں بحث و نظر کرتے ہیں ان علوم میں سے سوائے نحو کے اور وہ بھی ادھورے طور پر مولوی صاحب نے کسی ایک علم سے بھی مدد نہیں لی۔ مثلاً دارمدار علماء نظار کا ایک علم اصول فقہ ہے مولوی صاحب نے اس کی طرف بالکل توجہ نہیں فرمائی۔ ورنہ تین چار سطروں میں مباحثہ ختم تھا ہیچمدان بطور نمونہ کے بعض علوم رسمیہ کی اعانت سے مجملاً کچھ کچھ عرض کرتا ہے اگر مولوی صاحب بھی ان علوم رسمیہ کی اعانت سے مباحثہ فرماویں گے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ ہیچمدان بھی تفصیل سے عرض کرے گا۔ علم اصول فقہ مولوی صاحب نے اس علم کی طرف بالکل توجہ نہیں فرمائی۔ اگرچہ احقر کا منصب مدعی کا نہیں ہے لیکن اس غرض سے کہ مولوی صاحب اس علم کی طرف توجہ فرماویں کچھ عرض کرتا ہے کہ وفات عیسیٰ بن مریم آیت انِّی متوفّیک سے بروایت صحیح بخاری