دسؔ بجے تک کچھ سبق گھر پر پڑھاتا ہے۔ کچھ تلاوت قرآن مجید کی بطور نذر کے اپنے اوپر لازم اور واجب کر لی ہے۔ بقیہ وقت حوائج خورد و نوش اور حقوق وغیرہ میں صرف ہوجاتا ہے اور دس بج جاتے ہیں۔ اور اوقات جناب کے بالکل فارغ۔ احقر کا یہ حال کہ کبھی تعطیل ہوگئی تو ایک گھنٹہ کی مجھ کو فرصت مل گئی جس میں کچھ لکھ لکھا لیا یا کسی کتاب وغیرہ کا مطالعہ کر لیا۔ چنانچہ یہ ملتمسہ جمعہ کے روز لکھنے بیٹھا تھا اس میں بعض احباب آگئے ملتوی رکھا گیا۔ لیکن اتفاقاً آج بتاریخ یا زدہم ربیع الثانی بروز ہفتہ بھی تعطیل تھی لہٰذا اس کو پورا کر لیا۔ ورنہ اگر تعطیل نہ ہوتی تو آج پورا بھی نہ ہوتا۔ یہ احوال اوقات احقر کا جناب کو معلوم ہے۔ لیکن بمزید احتیاط اس واسطے التماس کیا گیا کہ اگر مباحثہ دہلی احقر کے پاس واسطے مطالعہ کے روانہ کیا جاوے تو اس پر نظر اوقات فرصت میں کروں گا۔ جناب والا کی طرف سے تعجیل نہ فرمائی جاوے کیونکہ تعجیل کی کچھ ضرورت بھی ایسی نہیں معلوم ہوتی۔ سب کام تامل اور تانی سے اچھا ہوتا ہے۔ ہاں البتہ جناب والا نے جو طرز مباحثہ دہلی تجویز کیا ہے احقر کو بہت مستحسن معلوم ہوتا ہے۔ دعویٰ حیات سے جس وقت دست برداری ہوگئی اس وقت ممات ثابت ہوجاوے گی اس میں تضیع اوقات بہت کم ہوگی۔ کیونکہ پھر بحث کی کچھ حاجت ہی نہ رہے گی۔ اس تجویز کے استحسان میں احقر بالکل آپ کا موافق ہے البتہ اتنا امر اس پر مزید عرض کرتا ہوں کہ وہی مباحثہ دہلی بعینہا مرحمت ہو اسی پرنظر کرلوں گا۔ تبدیل طرز مناظرہ کی کوئی ضرورت نہیں اور غیر مقبول ہے۔ مورخہ دہم ربیع الثانی روز جمعہ وقت شام مطابق سیزدہم نومبر ۱۸۹۱ء۔ طرز استدلال مباحثہ دہلی پر نظر حامدًا و مصلّیا و مسلما اس نیاز نامہ کا جواب مولوی صاحب نے جو بھیجا تو اس میں گذارشہائے دہ گانہ مندرجہ اخلاص نامہ کو تصدیق فرمایا۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی تحریر کیاکہ کلمۃ حق ارید بھا الباطل اور کچھ عذرات باردہ ایسے تحریر فرمائے کہ احقر ان کو بالفعل شائع نہیں کرتا۔ کیونکہ عوام کو ان سے تلون طبع کا اور ثبوت مل جاوے گا اور طرز استدلال مباحثہ دہلی کا کچھ تبدیل فرما کر صرف آیت لیؤمننّ بہٖ قبل موتہٖ استدلال کیا۔ اور آخر میں یہ بھی لکھا کہ ادلّہ حیات مسیح میرے پاس اور بھی بہت ہیں وہ پھر لکھی جاویں گی اور مطاوی تحریر میں بعض ایسے الفاظ تحریر فرمائے جو مولوی صاحب کی