اندرؔ یں صورت فریقین کے پرچہ مساوی نہ رہیں گے۔ ۱ جناب والا نے یہ مسئلہ علمیہ عنایت نامہ میں ایسا مندرج فرمایا ہے کہ ہیچمدان کی سمجھ میں نہیں آتا اور اغلب کہ دیگر ہمہ دانوں کی سمجھ میں بھی نہ آوے گا پس طرز جدید رائے ناقص میں مستحسن نہیں ہے۔ وہی طرز اور وہی مباحثہ محررہ جناب جس سے دہلی میں فتح ہوئی ہے کافی ہے کیونکہ مجرب بھی ہوچکا ہے اندریں صورت وہی مباحثہ دہلی ہیچمدان کے پاس روانہ فرمادیجئیے۔ حق ہوگا تو قبول کرلوں گا ورنہ نظر کر کر کچھ عرض کروں گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
گذارش نہم
جناب والا جب دہلی سے واپس تشریف لائے تو بروقت ملاقات کے احقر سے فرمایا تھا کہ جب حضرت میاں صاحب مدّظلّہٗ نے بہت سا کچھ اصرار کیا کہ اگر مباحثہ کرتے ہو تو اس میں مولوی محمد حسین صاحب وغیرہ سے ضرور بالضرور مشورہ کر لو کیونکہ تلاحق افکار سے علم میں ترقی ہوجاتی ہے تب آپ نے میاں صاحب سے کہا کہ مجھ کو اپنی ادلّہ پر ایسا وثوق ہے کہ حاجت اعانت اور مشورہ کی ہرگز نہیں ہے مطلب یہی تھا گو الفاظ اور ہوں۔ یہ سب قصہ جب سے احقر نے آپ کی خاص زبان فیض ترجمان سے سنا ہے اگرچہ بذریعہ آمد خطوط بھی معلوم ہوا تھا تب سے احقر نہایت مضطرب اور بے قرار ہے کہ وہ ادلّہ قطعیہ دفعتاً کیونکر غیب الغیب سے عالم شہود میں پیدا و ظاہر ہوگئیں کہ نہ حضرت شیخ الکل مدّظلّہٗ کے خیال میں آئیں اور نہ مولوی محمد حسین وغیرہ کی قوت متخیلہ میں گذریں اور تعجب پر تعجب یہ ہے کہ روایت عدول و ثقات سے سنا گیا کہ چند روز قبل تشریف بری دہلی کے آپ نے بھی برملا فرمایا تھا کہ حیات مسیح پر کوئی دلیل قطعی نہیں معلوم ہوتی۔ شرق سے غرب تک بھی اگر کوئی تفحص کرے تو بھی ایسی دلیل نہ ملے گی پس جب کہ وہ ادلّہ قطعیہ دفعتاً غیب الغیب سے عالم شہود میں آگئی ہیں اور مباحثہ دہلی میں پیش ہوکر صورت فتح وغلبہ بھی پیدا ہوگئی ہے تو وہ ادلّہ قطعیہ محررہ پیش شدہ بعینہا ہیچمدان کے پاس روانہ فرمادی جاویں۔ بھلا جب وہ ادلّہ قطعی الدلالت ہوں گی تو احقر انکو کیونکر قبول نہ کریگا۔ اور جو مقدمہ اسکا لکھا جارہا ہے اگر آپ چاہیں تو اسکو نہ دکھلایئے کیونکہ وہ مقدمہ غایت الامر یہ ہے کہ بطور مبادی کے ہوگا۔ نہ بطور مقاصد اور اصول مطالب کے کیونکہ ایسے اصول و مقدمات مقاصد سب قبل ہی سے ممہد ہوچکے ہوں گے اصول مقاصد میں اسکو دخل ہی کیا ہے۔
گذارش دہم
جناب کو معلوم ہے کہ یہ احقر دس بجے سے شام تک کچہری میں کام سرکاری کرتا ہے صبح سے