گذؔ ارش ہفتم
۱ کے اثر سے محفوظ رہنے کی نسبت جو ارشاد ہوا۔ وہ اگرچہ آپ کی ذات محبت سمات سے متوقع ہے مگر آپ کے معتقدین اور متعظمین سے کیونکر متوقع ہو۔ جناب کو اگر اپنے دل پر پورا قابو ہے تو دوسروں پر کیا قدرت و اختیار ہے قلب المؤمن بین اصبعین من اصابع الرحمٰن۔ بذرائع معتبر میں نے سنا کہ ایک جلسہ میں جو حال میں منعقد ہوا تھا اس میں میرے سچے دوست مجمع البر والخیر اسم بامسمّٰے مولوی خیر اللہ صاحب وغیرہ نے آپ کو یہ مشورہ دیا کہ مولوی محمد احسن یا تو اس مسئلہ سے توبہ کریں یا مباحثہ کر لیں ورنہ سلام کلام جملہ حقوق اسلام ان سے ترک کئے جاویں اور زمرہ اہلحدیث سے خارج۔ اس کا تدارک جناب والا کی طرف سے کیا واقع ہوا ان کے مشورہ کے بموجب ایک عنایت نامہ واسطے طلب مباحثہ کے تحریر فرمایا گیا جس سے بسبب ایسے شرور و فساد کے نیاز مند کوسوں بھاگتا ہے اور کل بروز جمعہ بھی جلسہ وعظ میں بھی یہی اعلان کیا گیا۔ پھر احقر کو اظہار صواب اور احقاق حق کی امید باوجود دخل دینے ایسے مجمع الخیروں کے کیونکر ہو اس کی کیا سبیل ہے۔
گذارش ہشتم
طرز مناظرہ جو تبدیل فرمایا گیا ہے اور یہ تجویز کیا گیا ہے کہ ایک میعاد کے بعد مدعی مجیب بن جاوے اور مجیب مدعی۔ یہ بھی رائے ناقص میں مستحسن نہیں معلوم ہوتا۔ اگرچہ جناب نے اس کو بہت غور اور فکر سے ایجاد کیا ہو کیونکہ ایسا انقلاب اور تبدیل بحث آداب مناظرہ سے رائے ناقص میں بالکل خلاف ہے غصب منصب جو علماء و نظار کے نزدیک مذموم ہے ایسی صورت میں اس کا ارتکاب کرنا پڑ جاوے گا۔ علاوہ بریں یہ عرض ہے کہ مباحثہ تو حیات و ممات ہی میں ہے اور جناب والا مدعی حیات کے ہیں پس جب کہ جناب مدعی حیات کے نہ رہیں گے۔ اور اس دعوے سے دستبردار ہوجاویں گے تو بحث ختم ہوچکی۔ آپ خودبخود قائل ممات کے ہوگئے۔ کیونکہ حیات و ممات میں کوئی واسطہ تو ہے ہی نہیں جو بحث باقی رہے۔ اجتماع الضدّین تو محالات میں سے ہے حیات بھی نہ ہو اور ممات بھی نہ ہو اس کے کیا معنے۔ ہاں اہل دوزخ کے واسطے ایسا کچھ ارشاد ہوا ہے کہ ۲ حیات و ممات میں ایسا تضاد ہے جیسا کہ وجود و عدم میں۔ پھر یہ بات فہم ناقص میں نہیں آتی کہ جناب والا ایک میعاد کے بعد دعویٰ حیات سے بھی دست بردار ہوجاویں۔ اور پھر بھی ممات کے قائل نہ ہوں۔ اور بحث جاری رہے اس میں جناب والا کو کیا اظہار حق و صواب مرکوز خاطر عاطر ہے