موضوؔ ع قرار نہیں دیا۔ بلکہ اگر کسی حدیث کو میں نے قرآن کریم سے مخالف پایا ہے تو خداتعالیٰ نے تاویل کا باب میرے پر کھول دیا ہے اور آپ نے یہ سوال جو مجھ سے کیا ہے کہ صحت احادیث کا معیار ٹھہرانے میں سلف صالحین سے آپ کاکون امام ہے۔ میری اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ اس بات کا بار ثبوت میرے ذمہ نہیں۔ بلکہ میں تو ہر ایک ایسے شخص کو جو قرآن کریم پر ایمان لاتا ہے خواہ وہ گذر چکا ہے یا موجود ہے اسی اعتقاد کا پابند جانتا ہوں کہ وہ احادیث کے پرکھنے کیلئے قرآن کریم کو میزان اور معیار اور محک سمجھتا ہوگا کیونکہ جس حالت میں قرآن کریم خود یہ منصب اپنے لئے تجویز فرماتا ہے اور کہتا ہے فَبِاَىِّ حَدِيْثِۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ۱ اور فرماتا ہے اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰىؕ ۲ اور فرماتا ہےوَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا ۳ اور فرماتا ہے ۴ اور فرماتا ہے ۵ اور فرماتا ہے۔ اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ ۶ لَا رَيْبَ ۛۚ ۖ فِيْهِ ۷ تو پھر اس کے بعد کون ایسا مومن ہے جو قرآن شریف کو حدیثوں کے لئے حکم مقرر نہ کرے؟ اور جب کہ وہ خود فرماتا ہے کہ یہ کلام حکم ہے اور قول فصل ہے اور حق اور باطل کی شناخت کیلئے فرقان ہے اور میزان ہے تو کیا یہ ایمانداری ہوگی کہ ہم خداتعالیٰ کے ایسے فرمودہ پر ایمان نہ لائیں؟ اور اگر ہم ایمان لاتے ہیں تو ہمارا ضرور یہ مذہب ہونا چاہئے کہ ہم ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول کو قرآن کریم پر عرض کریں تا ہمیں معلوم ہو کہ وہ واقعی طور پر اسی مشکٰوۃ وحی سے نور حاصل کرنیوالے ہیں جس سے قرآن نکلا ہے یا اس کے مخالف ہیں۔ سو چونکہ مومنؔ کیلئے یہ ایک ضروری امر ہے کہ قرآن کریم کو احادیث کا حکم مقرر کرے اس لئے ثبوت اس بات کا کہ سلف صالحین نے قرآن کریم کو حکم مقرر نہیں کیا آپ کے ذمہ ہے نہ میرے ذمہ۔ اس جگہ مجھے یہ افسوس بھی ہے کہ آپ قرآن کریم کا مرتبہ بخاری اور مسلم کے مرتبہ کے برابر بھی نہیں سمجھتے کیونکہ اگر کوئی حدیث کسی کتاب کو بخاری اور مسلم
*نوٹ:۔یعنی سچے اور حقیقی معنوں کا۔ عوام الناس نے جو علم الٰہی سے مطلق ناآشنا ہیں تاویل کو مرادف وہم پلہ تحریف و تسویل کے سمجھ رکھا ہے یہ محض ان کی کوتہ فہمی ہے انہیں اس لغت کے معنی خود قرآن کریم سے سمجھنا چاہئے جہاں حق سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُۘ ۸ وْمَ يَاْتِىْ تَاْوِيْلُهٗ ۹ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا منشا یہ ہے کہ جہاں کوئی ایسی حدیث آئی ہے جو بظاہر خلاف قرآن معلوم ہوتی تھی اللہ جلّ شانُہٗ نے الہاماً مجھ پر اس کے حقیقی معنے کھول دیئے۔ ایڈیٹر
الاعراف:۱۸۶ ۲ البقرۃ:۱۲۱ ۳ آل عمران : ۱۰۴ ۴ البقرہ : ۱۸۶ ۵ الشوریٰ:۱۸ ۶ الطارق:۱۴ ۷ البقرۃ:۳ ۸ ال عمران : ۸ ۹ الاعراف :۵۴