اختیاؔ ر کیا گیا ہے یہ امر نفس الامر کے خلاف معلوم ہوتا ہے شاید واسطے خاطر داری اور مدارات عوام کے مصلحتاً یہ جتلانا منظور ہے کہ ہم ابتدا سے اس مسئلہ میں مخالف ہیں۔ نہ متوقف۔ کیونکہ جس روز تک جناب والا دہلی سے واپس تشریف لائے ہیں اس روز تک تو ہجران کی ہاء ہوز بھی موجود نہ تھی حتیّٰ کہ بنا برمدارات احقر کے کسی قدر علماء دہلی کی شکایت غیر مہذبی اور مرزا صاحب کی ثناء تہذیب احقر سے بیان فرمائی اور مباحثہ کے سنانے کا بھی وعدہ غریب خانہ احقر پر تشریف لا کر فرمایا گیا اور دہلی سے ایک عنایت نامہ بنام احقر درجواب عریضہ ارسال ہوا جس میں کچھ تذکرہ مجمل مباحثہ کا تھا۔ اور اس سے پہلے وقت تشریف بری دہلی کے جناب والا نے بمعیت چند اشخاص معزز و مہذب اس احقر کے پاس قدم رنجہ فرمایا اور ارادہ جانے کا دہلی کو بغرض مباحثہ ظاہر فرمایا گیا گویا احقر سے رخصت ہو کر دہلی تشریف لے گئے اور اس سے پہلے جب مولوی محمد حسین صاحب اور جناب سے کسی مسئلہ میں کچھ مباحثہ ہوا تھا اور احقر خدمت مبارک میں حاضر ہوا تو جناب والا نے اپنی زبان فیض ترجمان سے اس کل مباحثہ کی زبانی نقل فرمائی اور یہ بھی ارشاد کیا کہ بعد اللّتیا والّتی میں نے تو مولوی محمد حسین صاحب کو دجال کذاب کہہ دیا۔ یہ سب حال سن کر احقر کو اس امر سے نہایت رنج ہوا اور بعض احباب سے اس رنج کو احقر نے ظاہر بھی کیا کہ مولوی محمد حسین صاحب کے ساتھ جو علماء مشہورین میں سے ہیں ایسا معاملہ و مکالمہ مناسب نہیں تھا یہ سب واقعات اس امر کے شواہد ہیں کہ جناب والا کو مرزا صاحب کے امر میں بسبب اس کے کہ ان کے دعاوی حیّزامکان میں ہیں توقف تھا اور حیّز امتناع میں نہ سمجھے گئے تھے۔ چنانچہ روایت ثقات سے یہ امر بھی معلوم ہوا تھا کہ جناب نے حصہ اول اعلام کی نسبت ارشاد فرمایا کہ اس میں جو ادلّہ مندرج ہیں وہ ادلّہ امکان کے اچھے لکھے ہیں۔ خلاصہ سب معروضات کا یہ ہے کہ سابق اس سے دعاوی مرزا صاحب آپ کے نزدیک سلسلہ ممکنات شرعیہ میں داخل تھے نہ ممتنعات شرعیہ مین۔ اسی واسطے جناب کو توقف تھا اور یہ واقعات سب کے دیکھے ہوئے اور سنے ہوئے ہیں۔ اب اس کے خلاف کے اظہار میں جناب کی کوئی مصلحت ہے تو احقر کو اس میں کچھ کلام نہیں۔ صرف اظہاراً للصواب ایک امر حق ظاہر کیا گیا اور یہ بطور مبتدا ئالحقّ کہا گیا ہے اب دیکھئے خبر اس کی مُرٌّ واقع ہوتی ہے یا حُلْوٌ۔