دہلیؔ واسطے مطالعہ کے روانہ فرمایا جاوے اس پر بغو رو امعاون نظر کرلوں گا۔
گذارش پنجم
ایک مشورہ ضروری خدمت مبارک میں عرض کرتا ہوں کہ آیت ۱ کو جناب نے حیات مسیح میں قطعی الدلالت بڑے زور و شور سے ثابت کیا ہے۔ علماء دہلی حضرت میاں صاحب مدظلہ وغیرہ و نیز مولوی محمد حسین بٹالوی اس آیت کو حیات مسیح میں قطعی الدلالت نہیں سمجھتے۔ چنانچہ جناب نے بھی بروقت ملاقات اس ہیچمدان سے یہ امر بیان فرمایا تھا اور نیز بذریعہ تحریرات آمدہ از دہلی یہ امر احقر کو معلوم ہوا تھا اور نیز مولوی محمد حسین نے اشاعہ میں صرف اتنا لکھا ہے کہ یہ آیت مطلوب میں اشارہ کرتی ہے۔ اندریں صورت یہ سب علماء استدلال میں آپ سے مخالف ہیں اگر اولاً مباحثہ جناب ان علماء سے ہوجاوے اور پہلے باہمی آپس میں اس کا تصفیہ کر لیا جاوے تو بہتر ہے کہ اس کا ثمرہ عظیم حاصل ہوگا۔ احقر بھی اس امر خاص میں ان علماء کا موافق ہے جب تک کہ وہ حق پر رہیں بعد تصفیہ باہمی کے جو امر حق ہوگا احقر تک بھی پہنچ جائے گا اور اگر یہ مشورہ پسند خاطر عاطر نہ ہو تو وہی مباحثہ دہلی روانہ فرما دیا جاوے- انشاء اللہ تعالیٰ احقا قاً للحق اس پر بہت غور وا معان سے نظر کر لوں گا۔
گذارش ششم
علاقہ محبت اور ہجران کی نسبت جو جناب نے فرمایا اس کی نسبت یہ گذارش ہے کہ فی الحقیقت احقر کو تو جناب کی خدمت میں اب تک ویسی ہی محبت ہے جیسا کہ سابق میں تھی اس وجہ سے جو اشعار عربی جناب نے لکھے ہیں ان کو بار بار پڑھتا ہوں اور دل نیاز منزل پر ایک حالت رقت کی طاری ہوتی ہے اور ان کے ساتھ ان اشعار کو بھی ضم کرتا ہوں
ولقد ندمت علی تفرق شملنا
ندما افاض الدمع من اجفانی
ونذرت ان عاد الزمان یلمنا
ماعدت اذکر فرقہ بلسانی
واقول للحساد موتوا حسرۃ
واللہ انی قد بلغت امانی
طفح السرور علیّ حتّٰی انہ
من فرط ما قد سرنی ابکانی
یاعین ما بال البکالک عادۃ
تبکین فی فرح وفی احزانی
اور عبارت جناب میں یہ جو منطوق بالمفہوم ہے کہ جب سے اس مسئلہ کو تم نے تسلیم کیا ہے۔ تب سے ہجران