بالمشاؔ فہ دریافت کر لیا جاوے۔ احقر اور محب ممدوح آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور محب ممدوح نے اس بارے میں بطور خود خواہ کن ہی الفاظ سے ہو جناب سے استفسار کیا۔ جناب نے احقر کے سامنے در جواب یہ مضمون ارشاد فرمایا کہ میں نے دجال کذاب نہیں کہا۔ مرزا صاحب کو اس امر میں خطا پر جانتا ہوں۔ خواہ خطا الہامی ہو یا خطاء اجتہادی یا خطاء عمدی۔ الفاظ کچھ ہوں مطلب یہی تھا۔ ان واقعات کا افشاء احقر نے آج تک نہیں کیا تھا۔ لیکن جب خدام جناب احقر کو بہت تاکید سے کسی مصلحت کے سبب مباحثہ پر مجبور فرماتے ہیں تب مجبور ہوکر یہ اسرار مخفیہ اظہاراً للصواب ظاہرکئے جاتے ہیں پھر مع ھٰذا ہیچمدان کومباحثہ سے احقاق حق اور اظہار صواب کی امید ہو تو کیونکر ہو اس کی کیا سبیل ہے وہ ارشاد ہو تو بعد اس کے تعمیل ارشاد کے لئے حاضر ہوں۔
گذارش سوم
عنایت نامہ میں الہام کو جو جناب نے ادلہ شرعیہ سے خارج فرمایا ہے یہ مسئلہ بھی درمیان فحول علماء کے طویل الذیل ہے اور ہیچمدان اس کی بحث سے اعلام الناس حصہ دوم میں بطور استدلال علوم رسمیہ کے اپنے زعم میں فارغ ہوچکا ہے۔ پس یہ بھی ضرور ہے کہ جناب اس پر قبولاً یا رداً نظر فرمالیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہیچمدان اعلام الناس میں یہ سب ابحاث درج کر کر فارغ ہوچکا ہے۔ بلکہ حضرت اقدس مرزا صاحب سلمہ ازالہ اوہام میں تمام ابحاث متعلقہ مسئلہ متنازعہ فیہا کو درج فرماچکے ہیں اور جملہ مراتب مندرجہ عنایت نامہ( کہ کبھی مدعی کو منصب مجیب کا دیدینا چاہئے اور کبھی مجیب کو منصب مدعی کا)طے فرماچکے ہیں پس جو جو امور کہ جناب کی رائے کے خلاف ہیں خواہ ازالہ اوہام میں ہوں یا اعلام الناس میں اولا اظہارًا للصواب واحقاقا للحق بطور مناظرہ حقہ کے ان میں بھی نظر فرما لیجئے۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ جناب نے اثناء مباحثہ دہلی میں مکرر سہ کرر یہ وعدہ بھی فرمایا ہے کہ ازالہ کا رد میں خوب بسط سے کروں گا۔ پس اول ان سب رسائل کا جواب ہوجانا بھی ضرور ہے اس کے بعد اگر احقر نے آپ کے جوابات کو تسلیم کر لیا۔ فہو المراد ورنہ ہیچمدان کی نظر اظہارًا للصواب بشرائط مفیدہ ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اس جانب سے تو اپنے زعم میں صحیح ہو یا خلاف پورا اتمام حجت کردیا گیا ہے۔
گذارش چہارم
یہ جو ارشاد فرمایا گیا کہ مرزا صاحب کو الہام میں کیسا ہی یدطولیٰ حاصل ہو لیکن جناب کے زعم