مضموؔ ن اقرار کیا کہ چونکہ یہ جلسہ خالصاًللہ ہے اس واسطے میں عہد کرتا ہوں کہ جو امر احقر کے فہم ناقص میں صواب ہو اور نفس الامر میں غلط تو اللہ کے واسطے آپ اس کو ضرور ردّ فرماویں گے اور میں اس کو قبول کروں گا۔ علیٰ ھٰذا القیاس جناب والا نے بھی احقر کے اس اقرار کے بعد خود اللہ تعالیٰ کو گواہ قرار دے کر یہ مضمون ارشاد فرمایا کہ میں بھی ایسا ہی کروں گا۔ اس میں سر موتجاوزنہ ہوگا۔ مطلب یہی تھا الفاظ گو اور ہوں۔ بعد اس عہد و پیمان کے احقر نے مسودہ اعلام الناس حصہ اول جناب والا کو سنانا شروع کیا۔ جس جگہ جناب نے اس میں بطور تائید کے کوئی مضمون ارشاد فرمایا اس کو بھی میں نے درج کر لیا۔ اور مجھ کو خوب یاد ہے کہ کسی مضمون پر آپ نے جرح نہیں کیا بلکہ تائیداً کچھ ارشاد فرمایا۔ شائد ایک جگہ جرح کیا تھا اس کو میں نے کاٹ دیا تھا اور اس پر بڑی دلیل ایک یہ ہے کہ حصہ اول اعلام کو شائع ہوئے عرصہ تخمیناً سات آٹھ ماہ کا ہوا ہوگا اور جناب کے پاس بھی نسخہ مطبوعہ اس کا پہنچ گیا ہے جو مضمون تائیداً آپ کی طرف سے اس میں لکھا گیا ہے اس کی تکذیب آپ نے اب تک شائع نہیں فرمائی اگر آپ مقام توقف میں نہ ہوتے تو اب تک ضرور اس کی تکذیب کا اشتہار دے دیتے۔ الحاصل تین جلسے متفرق ہوچکے تھے جو عوام نے جناب پر اتہام اور الزام لگانے شروع کئے پھر جلسہ خلوت کا نہ ہوا ؂ آں قدح بشکست وآں ساقی نماند۔ پس جب کہ حصہ اول میں تخمیناً دو ایک ورق سنانے سے باقی رہ گئے ہیں یا شاذو نادر کوئی ایک آدھ مضمون بھی رہ گیا ہو جو بروقت نظرثانی کے درج کیا گیا ہو۔ غرض کہ حصہ اول آپ کا سنا ہوا ہے۔وللاکثرحکم الکل پھر مولانا میرا کیا قصور ہے۔ مثل مشہور ہے کہ خود کردہ را علاجے نیست۔ ان سب واقعات سے مجھ کو پوری جرأت ہوگئی تب حصہ اول کو احقر نے حق سمجھ کر شائع کردیا پھر اگر تدارک مافات کرنا ہے تو حصہ دوم بھی شائع ہوچکا ہے جس کو جناب نے ابھی شاید مطالعہ نہیں فرمایا ہوگا اور مدت ہوئی کہ حصہ اول تو حسب الطلب خدمت اقدس میں حاضر کیا گیا ہے جس جس جگہ دونوں حصوں میں جناب کو کلام ہو جواب و رد تحریر فرمایئے انشاء اللہ تعالیٰ اگر حق ہوگا تو قبول کرلوں گا اور بڑا باعث حصہ دوم کی اشاعت کا یہ بھی ہوا کہ ایک روز اثنائے راہ میں جناب نے چپکے سے یہ مضمون فرمایا کہ حیات مسیح فی الحقیقت ثابت نہیں اگرچہ خلاف مذہب جمہور ہے مگر اس کو کسی سے تم کہو مت۔ مطلب یہی تھا الفاظ گو اور ہوں۔ جب چاروں طرف سے آپ پر عوام الزام لگانے لگے تب آپ نے وعظ میں حضرت اقدس مرزا صاحب کو دجال کذاب تعریضاً یا کنایتاً فرمایا۔ جب بھوپال میں اس وعظ کی خبر مشہور ہوئی تو ایک روز میرے ایک محب مکرم احقر سے اثنائے راہ محلہ نظر گنج میں فرمانے لگے کہ مولوی محمد بشیر صاحب تو حضرت مرزا صاحب کو دجال کذاب کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ آج کل کی روایات کا کیا اعتبار ہے مولوی صاحب سے