رفع ہوا ہے۔اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مولوی صاحب ایسے مباحثہ کا اس ہیچمدان سے اخفا کرنا جس کی نسبت سنتا ہوں کہ ہمارے مولوی صاحب کو فتح ہوئی اور حضرت مرزا صاحب کی شکست اور برملا ایک شہر کلاں دہلی میں واقع ہوا۔ ہر ایک تحریر پر فریقین کے دستخط ہوئے۔ جس میں تحریف و تبدیل کی گنجائش نہیں اور عنقریب بذریعہ طبع اس کو آپ شائع بھی کرنے والے ہیں خواہ ادھر سے شائع ہو یا نہ ہو پھر اس کے اخفا میں کیا مصلحت تھی ؂ نہاں کے ماند آں رازے کزو سازند محفلہا۔ اگر کوئی مقدمہ اس کا بطور مقاصد کے لکھا جارہا ہے جیسا کہ سننے میں آیا ہے تو وہ بعد از جنگ یا د آید کا مصداق ہے۔ اصول مقاصد مباحثہ میں اس کو دخل ہی کیا ہے ۔جملہ مقدمات مقاصد جو مناط اور مدار استدلال ہیں سب اس میں موجود اور مرتب ہوچکے ہوں گے پھر اس کے اخفا میں کبھی تو یہ عذر فرمانا کہ وہ تحریرات ابھی پراگندہ ہیں اس لئے بالفعل بھیج نہیں سکتا ہوں اور کبھی اس کے اخفا میں کسی مصلحت کی رعایت فرمانا فہم ناقص میں نہیں آتا خصوصاً ایسی حالت میں کہ ہیچمدان آپ کو اظہار حق و صواب میں ایک شمشیر برہنہ تصور کرتا ہے۔ الحاصل جب کہ اس ہیچمدان کی نسبت زبانی یہ تاکید تھی کہ یہ مباحثہ تجھ کو جب سنایا جاوے گا کہ تو اس میں بالکل خاموش رہے اور پھر باوجود قبول کر لینے اس شرط کے وہ سنایا بھی نہ گیا کہ مصلحت کے خلاف تھا تو اب احقر کو واسطے مباحثہ کے امر فرمانا مناقض اس امر کے ہے جس کا حکم اول ہوچکا ہے امور متناقضہ کے ساتھ کسی مجھ سے عاجز ناتوان یا ہیچمدان کا مکلف کرنا تکلیف مالا یطاق ہے ۱؂ اب اگر مباحثہ ہی مطلوب ہے تو اول وہی مباحثہ دہلی واسطے مطالعہ کے روانہ فرمادیا جاوے اسی پر نظر عاجز ہوسکتی ہے۔ گذارش ثانی مدت تخمیناً سات آٹھ ماہ کی گذری ہوگی کہ جب حضرت مرزا صاحب کے بارے میں فیمابین احقر و جناب کے تذکرہ ہوا کرتا تھا تو جناب نے اس ہیچمدان کو مشورہ بدیں خلاصہ مضمون دیا کہ اس بارہ میں برملا گفتگو ہونا مناسب نہیں عوام بھڑک جاتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ خلوت میں ہی گفتگو ہوا کرے احقر نے بھی اس کو مصلحت سمجھ کر قبول کیا اور یہ قرار داد ہوا کہ تمہارے ہی مکان میں یہ جلسہ ہوا کرے گا۔ چنانچہ خلوت میں تین جلسے ہوئے اور ہیچمدان نے اللہ تعالیٰ کو شاہد کر کر اول بدیں خلاصہ