ایکؔ ایسے نامی گرامی شخص کو جو دنیا بھر میں معروف و مشہور ہے شکست دی ہے پھر اس ہیچمدان و نالائق سے درخواست مباحثہ کیوں ہے۔ من المثل السائر فی الورٰی وکل الصید فی جوف الفرٰی یہ امر مجرب ہے۔ کہ اعالی پر فتح پا کر ادنیٰ کی طرف توجہ نہیں رہتی۔ یا الٰہی! یہ عالم رؤیا ہے یا یقظہکیونکہ جناب کا صرف درخواست مباحثہ کرنا اس ہیچمدان سے خصوصاً کل بروز جمعہ جلسہ وعظ میں باعث نہایت عزت اور فخر کا ہے اگرچہ روبرو جناب کے ہیچمدان محض ساکت و صامت ہی ہوجاوے تو بھی باعث فخر ہے اکھاڑے میں نامی پہلوان سے بھاگے ہوئے کو بڑی عزت حاصل ہوجاتی ہے۔ کاش اگر یہ درخواست مباحثہ قبل اس فتح عظیم کے واقع ہوتی تو بھی شائد اپنے موقع اور محل پر ہوتی۔ یاالٰہی یہ ترقی معکوس کیسی ہے۔ اینکہ می بینم بہ بیداریست یا رب یا بخواب۔ ہر حال اس خواب کی تعبیر جو خیال ناقص میں آئی ہیخیرلنا وشر لا عدائنا پھر عرض کروں گا۔ جواب عنایت نامہ گذارش کرتا ہوں۔
گذارش اول
جناب والا نے بروقت تشریف آوری کے دہلی سے جب نیاز مند خدمت مبارک میں حاضر ہوا تو زبان فیض ترجمان سے یہ مضمون ارشاد فرمایا تھا الفاظ کچھ ہوں مگر مطلب یہی تھا کہ یہ مباحثہ میرا علی الرغم مولانا سید نذیرحسین صاحب و محمد حسین وغیرہ کے واقع ہوا ہے بلکہ ان علماء نے بہ سبب نہ شریک کرنے انکے کے مباحثہ میں حتیّٰ کہ جلسہ بحث میں بھی جب شریک نہ کیا تو بخدمت حضرت مرزا صاحب سلمہ ان علما نے یہ تحریر کر بھیجا کہ اس مباحثہ کی فتح وشکست کا اثر ہم پر نہ پہنچے گا۔ اور یہ خبر سب دہلی میں بھی مشہور ہوگئی تھی اور یہ بات علاوہ ہے کہ یہ درخواست فریق ثانی کی تھی مگر آپکی رائے عالی بھی یہی تھی۔ اسی ضمن میں اور بھی چند باتیں ارشاد فرمائیں جن کو پھر عرض کروں گا۔ آخر اسی جلسہ میں یہ بھی فرمایا کہ بشرط اسکے کہ تم ہماری تحریر میں کوئی نقص و جرح نہ کرو تو ہم اسکو سنا بھی دیویں گے۔ اس پر اٰمنّا وسلّمناکہا گیا اور وعدہ یہ قرار داد پایا کہ غریب خانہ پر بوقت صبح آپ تشریف لاویں گے اور خلوت میں سب سنادیا جاوے گا۔ صبح کو ہیچمدان منتظر رہا کہ مولوی صاحب حسب الوعدہ اب تشریف لاتے ہوں گے الکریم اذا وعد وفا لیکن یہ امید مبدل بیاس ہوگئی اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔صرف نوازش نامہ صادر ہوا جس میں چند امور تحریر فرمائے گئے تھے منجملہ ان کے خلف وعدہ کا یہ عذر تھا۔ کہ یہ مباحثہ تم کو تمہارے مکان پر سنانا وجتانا خلاف مصلحت ہے کیونکہ خدا خدا کرکرتو مجھ پرسے الزام و اتہاؔ م