اور یہ ہجر ان بھی محض دین کیلئے ہے نہ کسی غرض دنیوی سے اور اس مرض ہجران کا علاج میرے نزدیک کوئی نہیں ہے۔ سوا اس کے کہ میرے اور آپ کے درمیان میں مباحثہ تحریر حیات و وفات مسیح علیہ السلام میں محض اظہارًا للصواب واقع ہوجاوے کیونکہ میں سچے دل سے آپ سے کہتا ہوں کہ اگر وفات میرے نزدیک ثابت ہوجاوے گی تو میں بے تامل اپنے قول سے رجوع کر لوں گا۔ واللّٰہ علی ما اقول وکیل اور آپ کے ساتھ بھی مجھ کو حسن ظن یہی ہے۔ پس امید قوی ہے کہ بعد مباحثہ کے سبب مرض انشاء اللہ تعالیٰ زائل ہوجائے گا۔ رہے لوازم بشریت و ظہور فساد فی البر و البحر سو اگر میں اور آپ تہذیب عقلی و نقلی کا التزام کر لیں تو ان کے مفاسد و شرور سے بچنا آسان امر ہے اور طریقۂ مناظرہ مستحسن یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہم میں سے مدعی بنے اور دوسرا مجیب اور مدعی کی تین تحریریں ہوں نہ کم نہ زیادہ اور مجیب کی دو تحریریں ہوں نہ کم نہ زیادہ۔ اس کے بعد عکس الامر ہو یعنی جو مجیب تھا وہ مدعی بنے اور مدعی مجیب اور یہاں بھی مدعی کی تین تحریریں ہوں نہ کم نہ زیادہ۔ اور مجیب کی دو تحریریں ہوں نہ کم نہ زیادہ۔ اس طریقہ میں فائدہ یہ ہے کہ بحث اس امر کی اٹھ جائے گی کہ دراصل کون مدعی ہے اور کون مجیب اور ہر ایک کو اپنے دعوے کی دلیل بیان کرنے اور مخالف کی دلیل کے رد کرنے کا علیٰ سبیل المساوات خوب موقع ملے گا۔ اور پرچے بھی دونوں کے مساوی العدد ہوجائیں گے- خاکسار کی جانب سے آپ کو اختیار ہے چاہے پہلے مدعی بنئے چاہے مجیب۔ امید کہ جو اب رقعہ ھٰذا سے جلد اور ضرور مشرف فرمایئے والسلام خیر الختام۔ مورخہ ۷؍ ربیع الثانی ۱۳۰۹ ؁ھ محمدؐ بشیر عفی عنہ مولوی سید محمدؐ احسن صاحب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مبسملًا محمدلًا مصلیّاً مسلمًا۔ مخدوم ومکرم جناب مولوی محمد بشیر صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہٗ نامہ نامی عزثانی نے مذاق و چاشنی قند مکرر عطا فرما کر سرفراز و ممتاز فرمایا اور درخواست مکرر مباحثہ کو دیکھ کر حیران ہوا کہ مولانا صاحب تو معرکۃ العلماء میں دہلی سے بقول خود فتح عظیم حاصل کر کے تشریف لائے ہیں۔ اور