مرؔ اسلت نمبر(۱) مابین مولوی محمد ؐ بشیر صاحب اور مولوی سید محمدؐ احسن صاحب مولوی محمد بشیر صاحب حامداً مصلیاً مبسملًا مکرم معظم بندہ جناب مولوی محمد احسن صاحب دام مجدکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ مورخہ ۲؍ ربیع الثانی پہنچا۔ مشرف فرمایا مندرجہ پر آگاہی حاصل ہوئی چونکہ بحث حیات و وفات مسیح علیہ السلام کی مبنی ادلہ شرعیہ پر ہے الہام کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے۔ اور گو جناب مرزا صاحب کوالہام میں کیسا ہی ید طولیٰ ہو لیکن خاکسار کے زعم میں علوم رسمیہ میں آپ کو ان پر ترجیح ہے اس لئے آپ کو میں احق بالمباحثہ جانتا ہوں۔ علاوہ اس کے خاکسار کے اور آپ کے درمیان میں جو علاقہ محبت قبل اس کے کہ آپ جناب مرزا صاحب کے مسیح موعود ہونے کے معتقد ہوں مستحکم تھا وہ اظہر من الشمس ہے۔ گویا ہم دونوں مصداق اس شعر کا تھے۔ ؂ وکنّاکندمانی جذیمۃ حقبۃ+ من الدھرحتّٰی قیل لن یتصدعا۔ اور یہ محبت محض دینی تھی نہ دنیوی اور جب سے آپ جناب مرزا صاحب کے مسیح موعود ہونے کے معتقد ہوئے ہیں۔ جب سے ہم دونوں مصداق اس شعر کا ہیں ؂ فلما تفرقنا کانی ومالکا لطول اجتماع لمؔ نبت لیلۃ معا