اورؔ صحابی بھی پیش کردیا۔ آپ اگر سچے ہوں تو اسی کتاب اصح الکتب سے کوئی حدیث اس پایہ کی پیش کریں جس سے حضرت مسیح کی زندگی جسمانی ثابت ہوتی ہو لیکن ایسا نہ کریں کہ آیت لیؤمننّ کی طرح کوئی ذوالوجوہ اور محجوب المفہوم حدیث پیش کردیں آپ جانتے ہیں کہ آیت لیؤمننّ کے متعلق چند روز کسی قدر ہم دونوں کا وقت ضائع ہوا۔ اور آخر آپ کا دعویٰ قطعیۃ الدلالت صریح باطل نکلا اور آپ نے جن پانچ دلیلوں پر حصر کیا تھا وہ ہباءً منثورًا کی طرح نابود ہوگئیں۔ حضرت آپ ناراض نہ ہوں۔ اگر پہلے سے آپ سوچ لیتے تو میرا عزیز وقت ناحق آپ کے ساتھ ضائع نہ ہوتا۔ اب جب کہ آپ کے ان اول درجہ کے دلائل کی جن کو آپ نے تمام ذخیرہ سے چن کر پیش کیا تھا۔ آخر میں یہ کیفیت نکلی تو میں کیونکر اعتبار کروں کہ آپ کے دوسرے دلائل میں کچھ جان ہوگی۔ اور آج جیسا کہ آپ کی طرف سے تین پرچے لکھے جاچکے ہیں میری طرف سے بھی تین پرچے ہوگئے- اب یہ چھ پرچے ہم دونوں کی طرف سے بجنسہٖ چھپ جانے چاہئیں پبلک خود فیصلہ کرلے گی کہ میں نے آپ کے دلائل پیش کردہ کو توڑ دیا ہے یا نہیں۔ اور آپ کی پیش کردہ آیت کیا درحقیقت قطعیۃ الدلالت ہے یا ذوالوجوہ بلکہ آپ کے طور پر معنے کرنے سے قابل اعتراض ٹھہرتی ہے یا نہیں۔ چونکہ مساوی طور پر ہم دونوں کے پرچے تحریر ہوچکے ہیں۔ تین آپ کی طرف سے اور تین میری طرف سے۔ اس لئے یہی پرچے بلا کم و بیش چھپ جائیں گے اور ہم دونوں میں سے کسی کو اختیار نہ ہوگا کہ غائبانہ طور پر کچھ اور زیادہ یا کم کرے۔ یہ پھر یاد رہے کہ تین پرچوں پر طبعی طور پر فریقین کے بیانات ختم ہوگئے ہیں اور اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد جب پبلک کی طرف سے منصفانہ رائیں شائع ہوں گی اور ثالثوں کے ذریعہ سے صحیح رائے جو حق کی مؤ یّد ہو پیدا ہوجائے گی۔ تو اس تصفیہ کیلئے آپ تحریری طور پر دوسرے امور میں بھی بحث کرسکتے ہیں۔ لیکن اس تحریری بحث کیلئے میرا اور آپ کا دہلی میں مقیم رہنا ضروری نہیں۔ جب کہ تحریری بحث ہے تو دور رہ کر بھی ہوسکتی ہے۔ میں مسافر ہوں اب مجھے زیادہ اقامت کی گنجائش نہیں۔ ملاحظہ:۔اس مباحثہ سے متعلق مولوی محمد بشیر صاحب اور مولوی سید محمد احسن صاحب کے مابین جو مراسلت ہوئی اور’’ الحق ‘‘میں طبع شدہ ہے ذیل میں اس غرض سے شائع کی جاتی ہے کہ تا اس زمانہ کے مولویوں کی طرز مناظرہ اور ان کی علوم رسمیہ سے وابستگی اور علم قرآن مجید سے بیگانگی پوری طرح آشکارا ہوجائے۔ شمس