کہؔ اس دنیا کے زوال تک کفار اہل کتاب باقی رہیں گے پھر یہ تاویل کہ کسی وقت قیامت سے پہلے پہلے کل اہل کتاب مسلمان ہوجائیں گے کس طور سے صحیح ٹھہر سکتی ہے۔ کیا کوئی اور بھی آیت اپنے کھلے کھلے اور بیّن منطوق سے اس بات کی مصدق ہے کہ ضرور ہے کہ آخری وقت میں قیامت سے پہلے تمام اہل کتاب مسلمان ہوجائیں گے۔ قرآن کریم کی نصوص بینہ قطعیۃ الدلالت کو محض ایک ذوالوجوہ اور متشابہ آیت پر نظر رکھ کر ردّ کر دینا دیانت کا کام نہیں ہے۔ اللہ جلّشانہ فرماتا ہے کہ متشابہات کا اتباع وہ کرتے ہیں جن کے دل میں کجی ہے اور صراط مستقیم کے پابند نہیں ہیں۔ پھر وہب اور محمد بن اسحاق اور ابن عباس واقع موت کے قائل ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم موت مسیح پر صریح شہادت دیتے ہیں اور امام بخاری خود اپنا مذہب یہی ظاہر کرتے ہیں تو پھر باوجود ان مخالفانہ ثبوتوں کے قَبل موتہٖ کی ضمیر کیونکر قطعی طور پر حضرت عیسٰی ؑ کی طرف پھر سکتی ہے۔ اور میں نے آپ کے خالص مستقبل کا بھی پورا پورا فیصلہ کردیا ہے طالب حق کیلئے کافی ہے۔
پھر آپ اپنے پرچہ کے اخیر میں فرماتے ہیں کہ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ جہان کے مفسرین و جملہ صحابہ و تابعین مسیح ابن مریم کی موت سے منکر اور حیات جسمانی کے قائل ہیں اس کے جواب میں عرض کیا جاتا ہے۔ کہ اگر آپ کے ساتھ کوئی عامی اور بے خبر مفسر ہوگا۔ ہمارے ساتھ اللہ جلّ شانہٗ اور اس کا پیارا اور برگزیدہ رسول ہے۔ کیا اس حدیث کے موافق جو کتاب التفسیر میں امام بخاری نے لکھی ہے۔ اور ابن عباس کا قول اسکی تائید میں ذکر کیا ہے۔ آپکے پاس اس پایہ کی کوئی حدیث ہے جسکے الفاظ متنازعہ فیہ کے بارے میں ابن عباس جیسے صحابی کی شرح ہی ہو تو وہ حدیث آپکو شائع کرنی چاہئے اور جیسا کہ اصح الکتب بخاری میں ابن عباس سے اِنِّی متوفّیک کی شرح اِنِّی مُمیتک منقول ہے۔ بھلا ایسی اصح الکتب میں سے کسی اور صحابی کے حوالہ سے متوفّیک کے کوئی اور معنے بھی تو ثابت کرکے دکھلاویں۔ آپ جانتے ہیں کہ بخاری تنقید میں اول درجہ پر ہے اور وہ حضرت عیسٰیؑ کی وفات بیان کرچکا ہے اور اسکے صفحہ ۶۶۵ میں ایک جلیل الشان صحابی ابن عم رسول اللہ متوفّیک کے معنے مُمیتک بتلا رہا ہے۔ اور جو آنکھیں رکھتا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ امام بخاری اس آل عمران کی آیت کو برموقعہ تفسیر فلمّا توفّیتنی کیوں لایا۔ اور ابن عباس کا قول کیوں پیش کیا۔ اور آیت فلمّا توفّیتنی کو کتاب التفسیر میں کیوں درج کیا۔ میں نے تو صحابی کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمودہ بھی آپ کے سامنے رکھ دیا۔