کےؔ معنی کھولنے کیلئے بوجہ مناسبت یہ فقرہ لکھ دیا ورنہ آل عمران کی آیت کو اس جگہ ذکر کرنے کا کوئی محل نہ تھا۔ اب دیکھئے شارح نے بھی اس بات کو قبول کر لیا ہے کہ امام بخاری اِنِّی متوفّیک مُمِیتک کے لفظ کو شہادت کے طور پر بہ تقریب تفسیر آیت فلما توفیتنی لایا ہے اور کتاب التفسیر میں جو بخاری نے ان دونوں متفرق آیتوں کو جمع کر کے لکھا ہے تو بجز اس کے اس کا اور کیا مدعا تھا۔ کہ وہ حضرت عیسٰی ؑ کی وفات خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قول سے ثابت کرچکا ہے۔ اب جب کہ اصح الکتاب کی حدیث مرفوع متصل سے جس کے آپ طالب تھے حضرت عیسٰی ؑ کی وفات ثابت ہوئی۔ اور قرآن کی قطعیۃ الدلالت شہادت اس کے ساتھ متفق ہوگئی۔ اور ابن عباس جیسے صحابی نے بھی موت مسیح کا اظہار کردیا۔ تو اس دوہرے ثبوت کے بعد اور کس ثبوت کی حاجت رہی۔ میں اس جگہ اور دلائل لکھنا نہیں چاہتا۔ میری کتاب ازالہ اوہام موجود ہے آپ اس کو ردّ کر کے دکھلاویں۔ خود حق کھل جائے گا۔ حضرت عیسٰیؑ وفات پاچکے اب آپ کسی طور سے ان کو زندہ نہیں کرسکتے۔
اب میں نے حضرت! اصل مدعا کا فیصلہ کردیا۔ زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔ جب میری اور آپکی تحریریں شائع ہونگی۔ منصف لوگ خود دیکھ لیں گے۔ آپ نے ایک ذوالوجوہ آیت کو جس کے قطعی طور پر ایک معنے ہرگز قائم نہیں ہوسکتے۔ قطعیتہ الدلالۃ ٹھہرانا چاہا تھا۔ میں نے اس طرح کہ جیسے دن چڑھ جاتا ہے۔ آپکو دکھلا دیا کہ وہ آیت حضرت عیسٰی ؑ کی زندگی پر ہرگز ہرگز قطعیۃ الدلالت نہیں۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اسکے ضمیروں میں ہی کسی قدر گڈمڈ پڑا ہوا ہے۔ کوئی کسی طرف پھیرتا ہے اور کوئی کسی طرف۔ نہ حال کے ایک معنے ٹھہر سکتے ہیں اور نہ خالص استقبال کے ایک معنے۔ پھر وہ قطعیتہ الدلالت کیونکر ہوگئی؟ کیا قطعیۃ الدلالت اسی کو کہتے ہیں کہ کوئی اسکی ضمیر خدا تعالیٰ کی طرف پھیرے اور کوئی ہمارے سید ومولانبی عربی خاتم الانبیاءؐ کی طرف اور کوئی حضرت عیسٰی ؑ کی طرف اور کوئی قبل موتہٖ کی ضمیر حضرت عیسیٰؑ کی طرف پھیرے اور کوئی کتابی کی طرف جب کہ تعین مرجع میں ہی ابتداء سے یہ تفرقہ چلا آیا ہے۔ اور پھر اہل کتاب کے لفظ میں بھی تفرقہ اور اختلاف ہے کہ وہ کس زمانہ کے اہل کتاب میں ہیں۔ اور پھر بقول آپ کے ایمان لانے والوں کا زمانہ بھی ایک نشاندہی کے ساتھ مقرر اور معین نہیں۔ تو پھر انصافاًفرمایئے کہ باوجود ان سب آفتوں کے یہ آیت قطعیۃ الدلالت کیونکر ٹھہرے گی۔ قرآن کریم کے کئی مقامات سے ثابت ہورہا ہے