کسی ؔ مکان کی طرف منسوب نہیں ہوسکتے بلکہ ۱ ہوتے ہیں۔ یعنی اگر ان کا کوئی خاص مکان ہے تو یہی مکان ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب کا مکان جو حسب استعداد ان کو ملتا ہے اب جب کہ قرآن کریم میں رافعک اِلَیَّ ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ میں تجھ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ اگر جسمانی طور پر رفع مراد لیا جائے تو سخت اشکال پیش آتا ہے۔ کیونکہ احادیث صحیحہ بخاری سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح معہ اپنے خالہ زاد بھائی کے دوسرے آسمان پر ہیں۔ تو کیا خدا تعالیٰ دوسرے آسمان میں بیٹھا ہوا ہے تا دوسرے آسمان میں ہونا رافعک اِلَیَّ کا مصداق ہوجائے۔ بلکہ اس جگہ روحانی رفع مراد ہے جس کا حسب مراتب ایک خاص آسمان سے تعلق ہے۔ بخاری میں حدیث معراج کی پڑھو اور غور سے دیکھو۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ ان تمام وجوہات کی رو سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ وفات پا گئے ہیں بلاشبہ آیت اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ حضرت عیسیٰؑ کی وفات پر قطعیۃ الدلالت ہے۔ عموم محاورہ قرآن شریف کا اسی پر دلالت کرتا ہے۔ بخاری میں حضرت ابن عباس کی روایت سے متوفّیک کے معنے ممیتک لکھے ہیں اور بخاری نے کسی صحابی کی روایت سے کوئی دوسرے متوفّیک کے معنے ہرگز اپنی صحیح میں نہیں لکھے اور نہ مسلم نے لکھے ہیں۔ بلکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے۔ کہ خدا تعالیٰ کے فاعل ہونے اور انسان کے مفعول ہونے کی حالت میں بجز قبض روح کے اور کوئی معنے نہیں ہوسکتے۔ اسی بنا پر میں نے ہزار روپیہ کا اشتہار بھی دیا ہے۔ اب اگر یہ آیت مسیح ابن مریم کی وفات پر قطعیۃ الدلالت نہیں تو دلائل مذکورہ بالا اور نیز دلائل مفصلہ مبسوطہ ازالہ اوہام کا جواب دینا چاہئے تا آپ کو ہزار روپیہ بھی مل جائے اور اپنے بھائیوں میں علمی شہرت بھی حاصل ہوجائے۔
دوسری دلیل مسیح ابن مریم کی وفات پر خود جناب رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث ہے جس کو امام بخاری اپنی کتاب التفسیر میں اسی غرض سے لایا ہے کہ تا یہ ظاہر کرے کہ لمّا توفّیتنی کے معنے لَمَّا اَمَتَّنِیْ ہے اور نیز اسی غرض سے اس موقعہ پر ابن عباس کی روایت سے متوفّیک مُمِیتک کی بھی روایت لایا ہے تا ظاہر کرے کہ لمّا توفّیتنی کے وہی معنی ہیں جو انی متوفیک کے معنی ابن عباس نے ظاہر فرمائے ہیں۔ اس مقام پر بخاری کو غور سے دیکھ کر ادنیٰ درجہ کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ توفّیتنی کے معنی امتّنی ہیں یعنی تو نے مجھے مار دیا۔ اس میں تو کچھ شبہ