آیتؔ کو اس طرح پرزیر و زبر کرنا پڑے گا۔ یاعیسی انی رافعک الی السماء و مطھرک من الذین کفروا وجاعل الّذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیٰمۃ ثم منزلک الی الارض و متوفّیکاب فرمایئے کیا اس تحریف پر کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل مل سکتی ہے۔ یہودی بھی تو ایسے ہی کام کرتے تھے کہ اپنی رائے سے اپنی تفسیروں میں بعض آیات کے معنے کرنے کے وقت بعض الفاظ کو مقدم اور بعض کو مؤخر کردیتے تھے جنکی نسبت قرآن مجید میں یہ آیت موجود ہے کہ ۱؂ ان کی تحریف ہمیشہ لفظی نہیں تھی بلکہ معنوی بھی تھی۔ سو ایسی تحریفوں سے ہریک مسلمان کو ڈرنا چاہئے۔ اگر کسی حدیث صحیح میں ایسی تحریف کی اجازت ہے تو بسم اللہ وہ دکھلایئے۔ غرض آیت یَاعیسٰی اِنّی متوفیک میں اگر قرآن کریم کا عموم محاورہ ملحوظ رکھا جائے اور آیت کو تحریف سے بچایا جائے تو پھر موت کے بعد اور دوسرے معنے کیا نکل سکتے ہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ آیت میں رَافِعُکَ اِلَیَّ وارد ہے رافعک اِلَی السَّمَآء وارد نہیں۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ روح کوئی مکانی چیز نہیں ہے بلکہ اسکے تعلقات مجہول الکنہ ہوتے ہیں۔ مرنے کے بعد ایک تعلق روح کا قبر کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور کشف قبور کے وقت ارباب مکاشفات پر وہ تعلق ظاہر ہوتا ہے کہ صاحب قبور اپنی اپنی قبروں میں بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بلکہ ان سے صاحب کشف کے مخاطبات و مکالمات بھی واضح ہوجاتے ہیں ۔یہ بات احادیث صحیحہ سے بھی بخوبی ثابت ہے۔ صلٰوۃ فی القبر کی حدیث مشہور ہے اور احادیث سے ثابت ہے کہ مردے جوتی کی آواز بھی سن لیتے ہیں اور السّلام علیکم کا جواب دیتے ہیں باوجود اسکے ایک تعلق ان کا آسمان سے بھی ہوتا ہے اور اپنے نفسی نقطہ کے مکان پر ان کا تمثل مشاہدہ میںآتا ہے اور ان کا رفع مختلف درجات سے ہوتا ہے بعض پہلے آسمان تک رہ جاتے ہیں بعض دوسرے تک بعض تیسرے تک لیکن موت کے بعد رفع روح بھی ضرور ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث صحیح اور آیت ۲؂ صریح اشارہ کررہی ہے۔ لیکن ان کا آسمان پر ہونا یا قبروں میں ہونا ایک مجہول الکنہ امر ہے۔ عنصری خاکی جسم تو ان کے ساتھ نہیں ہوتا کہ خاکی اجسام کی طرح ایک خاص اور حیز اور مکان میں ان کا پایا جانا ضروری ہو۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے رَافِعُکَ اِلَیَّ فرمایا رَافِعُکَ اِلَی السَّمَآءِ نہیں کہا۔ کیونکہ جو لوگ فوت ہوجاتے ہیں وہ خاص طور پر