بمحمدؐ قبل موت الکتابی یعنی اس آیت کے معنے میں اہل تاویل کا اختلاف چلا آیا ہے۔ کوئی ضمیر قبل موتہ کی عیسیٰؑ کی طرف پھیرتا ہے اور کوئی کتابی کی طرف اور کوئی بہٖکی ضمیر حضرت عیسیٰؑ کی طرف پھیرتا ہے اور کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف۔ پس گو ابن جریر یا ابن کثیر کا اپنا مذہب کچھ ہو یہ شہادت توانہوں نے بڑی بسط سے بیان کردی ہے کہ اس آیت کے معنے اہل تاویل میں مختلف فیہ ہیں اور ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں کہ مسیح ابن مریم کے نزول اور حیات پر قطعی دلالت اس آیت کی ہرگز نہیں اور یہی ثابت کرنا تھا۔
اب بعد اس کے کسی قدر بطور نمونہ مسیح ابن مریم کی وفات پر دلائل لکھے جاتے ہیں واضح ہو کہ قرآن کریم میں ۱۴؍۳ موجود ہے۔ قرآن کریم کے عموم محاورہ پر نظر ڈالنے سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ تمام قرآن میں توفّی کا لفظ قبض روح کے معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔ یعنی اس قبض روح میں جو موت کے وقت ہوتا ہے دو جگہ قرآن کریم میں وہ قبض روح بھی مراد لیا ہے جو نیند کی حالت میں ہوتا ہے۔ لیکن اس جگہ قرینہ قائم کردیا ہے جس سے سمجھا گیا ہے کہ حقیقی معنے تو فّی کے موت لئے ہیں۔ اور جو نیند کی حالت میں قبض روح ہوتا ہے وہ بھی ہمارے مطلب کے مخالف نہیں۔ کیونکہ اسکے تو یہی معنے ہیں کہ کسی وقت تک انسان سوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی روح کو اپنے تصرف میں لے لیتا ہے اور پھر انسان جاگ اٹھتا ہے سو یہ وقوعہ ہی الگ ہے اس سے ہمارے مخالف کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ بہرحال جب کہ قرآن میں لفظ تو فّی کا قبض روح کے معنوں میں ہی آیا ہے اور احادیث میں ان تمام مواضع میں جو خدا تعالیٰ کو فاعل ٹھہرا کر اس لفظ کو انسان کی نسبت استعمال کیا ہے جا بجا موت ہی معنے لئے ہیں۔ تو بلاشبہ یہ لفظ قبض روح اور موت کیلئے قطعیۃ الدلالت ہوگیا۔ اور بخاری جو اصح الکتب ہے اس میں بھی تفسیر آیت فلمّا توفّیتنیکی تقریب میں متوفّیک کے معنے ممیتک لکھا ہے۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ موت اور رفع میں ایک ترتیب طبعی واقع ہے ہریک مومن کی روح پہلے فوت ہوتی ہے پھر اس کا رفع ہوتا ہے۔ اسی ترتیب طبعی پر یہ ترتیب وضعی آیت کی دلالت کررہی ہے کہ پہلے انّی متوفّیک فرمایا اور پھر بعد اسکے رافعک کہا اور اگر کوئی کہے کہ رافعک مقدم اور متوفّیک مؤخر ہے۔ یعنی رافعک آیت کے سر پر اور متوفّیک فقرہ ۲ کے بعد اور بیچ میں یہ فقرہ محذوف ہے ثم منزّلک الی الارض سو یہ ان یہودیوں کی طرح تحریف ہے جن پر بوجہ تحریف کے *** ہوچکی ہے۔ کیونکہ اس صورت میں اس