ایماؔ ن کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم خود تشریف لے آویں۔ پس ایسا ہی یقین کیجئے کہ حضرت مسیح پر ایمان لانے کیلئے بھی دوبارہ ان کا دنیا میں آنا ضروری نہیں اور ایمان لانے اور دوبارہ آنے میں کچھ تلازم نہیں پایا جاتا۔ اور اگر آپ اپنی ضد نہ چھوڑیں اور ضمیر لیؤمننّ بہٖ کو خواہ نخواہ حضرت عیسیٰؑ کی طرف ہی پھیرنا چاہیں باوجود اس فساد معنے کے جس کا نقصان آپ کی طرف عائد ہے۔ ہماری طرز بیان کا کچھ بھی حرج نہیں۔ کیونکہ ہمارے طور پر برعایت خالص استقبال کے پھر اسکے یہ معنے ہوں گے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے سب اہل کتاب اپنی موت سے پہلے حضرت عیسیٰؑ پر ایمان لے آویں گے۔ سو یہ معنے بھی خالص استقبال ہونے میں آپ کے معنے کے ہم رنگ ہیں۔ کیونکہ اس میں کچھ شک نہیں کہ ابھی تک وہ زمانہ نہیں آیا جو سب کے سب موجودہ اہل کتاب حضرت عیسیٰؑ پر یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لے آئے ہوں۔ لہٰذا خالص استقبال کے رنگ میں اب تک یہ پیشگوئی موافق ان معنوں کے چلی آتی ہے۔ اب اگر ہماری اس تاویل میں آپ کوئی جرح کریں گے تو وہی جرح آپ کی تاویل میں ہوگی۔ یہاں تک کہ آپ پیچھا چھڑا نہیں سکیں گے۔ جن باتوں کو آپ اپنے پرچوں میں قبول کر بیٹھے ہیں انہیں کی بنا پر میں نے یہ تطبیق کی ہے۔ اور جس طرز سے آپ نے آخری زمانہ میں اہل کتاب کا ایمان لانا قرار دیا ہے اسی طرز کے موافق میں نے آپ کو ملزم کیا ہے۔ اور اسے خالص استقبال کے موافق خالص استقبال پیش کردیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ صحابہ کے وقت سے اس آیت کو ذوالوجوہ قرار دیتے چلے آئے ہیں۔ ابن کثیر نے زیر ترجمہ اس آیت کے یہ لکھا ہے قال ابن جریر اختلف اھل التاویل فی معنی ذٰلک فقال بعضہم معنی ذٰلک وان من اھل الکتاب الا لیؤمننّ بِہٖ قبل موتہٖ ۶۲ یعنی قبل موت عیسٰی وقال اخرون یعنی بذلک وان من اھل الکتاب الا لیومنن بعیسی قبل موت الکتابی ذکر من کان یوجہ ذٰلک الی انہ اذا عاین علم الحق من الباطل۔ قال علی بن ابی طلحۃ عن ابن عباس فی الاٰیۃ قال لایموت یہودی حتی یومن بعیسٰی وکذاروی ابوداؤد الطیالسی عن شعبۃ عن ابی ھارون الغنوی عن عکرمۃ عن ابن عباس فھٰذہ کلھا اسانید صحیحۃ الی ابن عباس وقال اٰخرون معنی ذٰلک وان من اھل الکتاب الّا لیؤمننّ