کیؔ ہی طرز پر یہ معنے کرتا ہوں کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے سب موجودہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ہمارے نبی کریم صلعم پر ایمان لے آئیں گے۔ بھائیو برائے خدا ذرہ نظر ڈال کر دیکھو کہ کیا خالص استقبال میری تاویل اور مولوی صاحب کی تاویل میں برابر درجہ کا ہے یا ابھی فرق رہا ہواہے۔ اب بھائیو انصافاًدیکھو کہ ان معنوں میں بہ نسبت مولوی صاحب کے معنوں کے کس قدر خوبیاں جمع ہیں۔وہ اعتراض جو مولوی صاحب کی طرز پر ضمیر بِہٖ کے تعین مرجع میں ہوتا تھا۔ وہ اس جگہ نہیں ہوسکتا۔ قراء ت شاذہ اس تاویل کی مؤیّد ہے۔ اور بایں ہمہ خالص استقبال موجود ہے۔ اب اے حاضرین مبارک۔ مولوی صاحب کے دعویٰ قطعیّت کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ مگر تعصب اور طرف داری سے خالی ہو کر غور کرنا۔ مولوی صاحب نے اس بحث حیات مسیح کا حصر پانچ دلیلوں پر کیا تھا۔ چار دلیلوں کو تو انہوں نے خود چھوڑ دیا اور پانچویں کو خدا تعالیٰ نے حق کی تائید کر کے نیست و نابود کیا۔ ۱ ۹؍۱۵اب اے حاضرین۔ اے خدا تعالیٰ کے نیک دل بندو ۔سو چ کر دیکھو اور ذرہ اپنے فکر کو خرچ کر کے نگاہ کرو کہ حضرت مولوی محمدبشیر صاحب کا کیا دعویٰ تھا۔ یہی تو تھا کہ آیت لیومنن بہٖ کے وہ سچے اور صحیح معنے ٹھہر سکتے ہیں جن میں لفظ لیؤمننّ کو خالص مستقبل ٹھہرایا جائے اور مولوی صاحب نے اپنے مضمون کے صفحوں کے صفحے اسی بات کے ثابت کرنے کیلئے لکھ مارے کہ نون ثقیلہ مضارع کے آخر مل کر خالص مستقبل کے معنوں میں لے آتا ہے۔ اسی دھن میں مولوی صاحب نے حضرت ابن عباس کے معنوں کو قبول نہیں کیا اور یہ عذر پیش کیا کہ وہ معنے بھی نحویوں کے اجماعی عقیدہ کے برخلاف ہیں۔ سو ہم نے مولوی صاحب کی خاطر سے ابن عباس کے معنوں کو پیش کرنے سے موقوف رکھا اور روایت عکرمہ کی بنا پر وہ معنے پیش کئے جو خالص مستقبل ہونے میں بکلی مولوی صاحب کے معنوں سے ہمرنگ اور ان نقصوں سے مبرا ہیں جو مولوی صاحب کے معنوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ مسیح پر ایمان لانے کے وقت ہمارے سید و مولا خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانا ضروری ہے اور اسکے ضمن میں ہریک نبی پر ایمان لانا داخل ہے۔ پھر کیا ضرورت ہے کہ اس ایمان کیلئے حضرت مسیح کو آسمانوں کے دارالسرور سے اس دارالابتلا میں دوبارہ لایا جائے۔ مثلاً دیکھئے کہ جو لوگ بقول آپ کے آخری زمانہ میں آنحضرت صلعم پر ایمان لائیں گے یا اب ایمان لاتے ہیں۔ کیا ان کے