نازؔ ل کرتا ہے۔ حضرت سنیئے آپ اس آیت کے یہ معنے کرتے ہیں کہ ایک زمانہ قبل موت عیسیٰ ؑ کے ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے موجودہ اہل کتاب سب کے سب حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لے آئیں گے۔ اور بموجب روایت عکرمہ برعایت آپ کے نحوی قاعدہ کے یہ معنے ٹھہریں گے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے موجودہ اہل کتاب سب کے سب نبی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم پر اپنی موت سے پہلے ایمان لے آئیں گے جس ایمان کے طفیل مسیح ابن مریم پر بھی ایمان لانا انہیں نصیب ہوجائے گا۔ اب حضرت اللّٰہ جلّشانہٗ سے ڈر کر فرمایئے کہ کیا آپ کے قطعیۃ الدلالت ہونے کا دعویٰ بکلی نابود ہوگیا۔ یا ابھی کچھ کسر باقی ہے۔ آپ خوب سوچ کر اور دل کو تھام کر بیان فرماویں۔ کہ آپ کی طرز تاویل میں کونسی خالص استقبال کی علامت خاص طور پر پائی جاتی ہے جو اس تاویل میں وہ نہیں پائی جاتی۔ ناظرین برائے خدا آپ بھی ذرا سوچیں۔ بہت صاف بات ہے ذرہ توجہ فرماویں۔ اے ناظرین آپ لوگ جانتے ہیں کہ کئی دن سے مولوی صاحب کی یہی بحث لگی ہوئی تھی اور فقط اسی بات پر ان کی ضد تھی کہ لفظ لیؤمننّ لام اور نون ثقیلہ کی وجہ سے خالص استقبال کے معنوں میں ہوگیا ہے۔ اور مولوی صاحب اپنے گمان میں یہ سمجھ رہے تھے کہ خالص استقبال صرف اس طور کے معنے کرنے سے متحقق ہوتا ہے کہ قبل موتہٖ کی ضمیر مسیح ابن مریم کی طرف پھیریں اور اس کی حیات کے قائل ہوجائیں۔ اور اب اے بھائیو میں نے ثابت کر کے دکھلا دیا کہ خالص استقبال کیلئے یہ ضروری نہیں کہ قبل موتہٖ کی ضمیر حضرت عیسیٰ کی طرف پھیری جائے بلکہ اس جگہ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف ضمیر بِہٖ اور ضمیر قبل موتہٖپھیرنے سے معنے ہی فاسد ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ فقط عیسیٰ ؑ پر ایمان لانا نجات کے لئے کافی نہیں۔ بلکہ سچے اور واقعی معنے اس طرز پر یہی ہیں کہ ضمیر بہٖ کی ہمارے سید و مولیٰ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف پھیری جائے اور ضمیر قبل موتہٖ کی کتابی کی طرف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ضمن میں خود حضرت عیسیٰ ؑ وغیرہ انبیاء سب ہی آجائیں گے ؂ نام احمد نام جملہ انبیا است چونکہ صد۱۰۰ آمد نو د۹۰ہم نزدماست۔ بھائیو برائے خدا خود سوچ لوکہ ان معنوں میں اور حضرت مولوی صاحب کے معنوں میں خالص مستقبل ہونے میں برابری کا درجہ ہے یا ابھی کچھ کسر باقی ہے۔ بھائیو میں محض ِ للہ آپ لوگوں کے سمجھانے کیلئے پھر دوہرا کر کہتا ہوں کہ مولوی صاحب آیت لیؤمننّ بہٖ کے معنے یوں کرتے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے موجودہ اہل کتاب حضرت عیسیٰؑ کی موت سے پہلے سب کے سب ان پر ایمان لے آئیں گے۔ اور میں حسب روایت حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ جیسا کہ معالم وغیرہ میں لکھا ہے۔ مولوی صاحب