طورؔ پر فیصلہ نہیں کرسکے اور نہ ان کا ایک ہی معنوں پر قطعیۃ الدلالت ہونا بپایہ ثبوت پہنچا چکے ہیں۔ ازانجملہ ایک یہ کہ اہل الکتاب کا لفظ اکثر قرآن کریم میں موجودہ اہل کتاب کیلئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں موجود تھے بیان فرمایا گیا ہے اور ہر یک ایسی آیت کا جس میں اہل کتاب کا ذکر ہے وہی مصداق اور شان نزول قرار دیئے گئے ہیں۔ پھر مولوی صاحب کے پاس باوجود اس دوسرے معنے ابن عباس اور عکرمہ کی کونسی قطعی دلیل اس بات پرہے کہ اس ذکر اہل کتاب سے وہ لوگ قطعاً باہر رکھے گئے ہیں اور کون سی حجت شرعی یقینی قطعیۃ الدلالت اس بات پر ہے کہ اہل کتاب سے مراد اس زمانہ نامعلوم کے اہل کتاب ہیں جس میں تمام وہ لوگ حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئیں گے۔ ازانجملہ ایک یہ کہ مولوی صاحب نے تعیین مرجع لیؤمننّ بہٖمیں کوئی قطعی ثبوت پیش نہیں کیا۔ کیونکہ تفسیر معالم التنزیل وغیرہ تفاسیر معتبرہ میں حضرت عکرمہ وغیرہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے یہ بھی روایت ہے کہ ضمیر بہٖ کی جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف پھرتی ہے اور یہ روایت قوی ہے کیونکہ مجرد مسیح ابن مریم پر ایمان لانا موجب نجات نہیں ٹھہر سکتا۔ ہاں خاتم الانبیاء پر ایمان لانا بلاشبہ موجب نجات ہے کیونکہ وہ ایمان تمام نبیوں پر ایمان لانے کو مستلزم ہے۔ پس اگر حضرت عیسیٰ کو بِہٖکے ضمیر کا مرجع ٹھہرایا جائے تو اس کا فساد ظاہر ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اگر کوئی اہل کتاب شرک سے توبہ کر کے صرف حضرت عیسیٰ کی رسالت اور عبدیت کا قائل ہو۔ لیکن ساتھ اسکے ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت سے قطعاً منکر ہو تو کیا وہ اسی ایمان سے نجات پاسکتا ہے ہرگز نہیں۔ پھر یہ ضمیر بِہٖ کی حضرت عیسیٰ کی طرف آپ کے معنوں کے رو سے کیونکر پھر سکتی ہے۔ اگر یہ تثنیہ کی ضمیر ہوتی تو ہم یہ خیال کر لیتے اس میں حضرت عیسیٰؑ بھی داخل ہیں لیکن ضمیر تو واحد کی ہے صرف ایک کی طرف پھرے گی اور اگر وہ ایک بجز ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کوئی دوسرا ٹھہرایا جائے تو معنے فاسد ہوتے ہیں۔ لہٰذا بالضرورت ماننا پڑا کہ اس ضمیر کا مرجع ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔ اس صورت میں مَوتہٖ کی ضمیر کتابی کی طرف پھیری جائے گی۔ اگر آپ اس جگہ یہ اعتراض کریں کہ ایسے معنوں سے لیؤمننّ کا لفظ استقبال کے خالص معنوں میں کیونکر رہے گا تو میں اس کا یہ جواب دیتا ہوں کہ جیسے آپ کے معنوں میں رہا ہوا ہے۔ اس وقت ذرہ آپ متوجہ ہو کر بیٹھ جائیں اور اس قادر سے مدد چاہیں جو سینوں کو کھولتا اور دلوں میں سچائی کا نور