نحوؔ کے اجماعی قاعدہ سے بے خبر ٹھہراتے ہیں اور قراء ت ابیّ بن کعب کو بھی جو قبل موتہم ہے بکلی مردود اور متحقق الافترا خیال کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ صرف ان کے دعوے سے ہی یہ ان کا بہتان قابل تسلیم نہیں ٹھہر سکتا بلکہ اگر وہ اپنے معنوں کو قطعیۃ الدلالت بنانا چاہتے ہیں تو ان پر فرض ہے کہ ان دونوں باتوں کا قطعی طور پر پہلے فیصلہ کر لیں۔ کیونکہ جب تک ابن عباس اور عکرمہ کے مخالفانہ معنوں میں احتمال صحت باقی ہے اور ایسا ہی گو حدیث قراء ت شاذہ بقول مولوی صاحب ضعیف ہے مگر احتمال صحت رکھتی ہے تب تک مولوی صاحب کے معنے باوجود قائم ہونے ان تمام احتمالات کے کیونکر قطعی ٹھہر سکتے ہیں۔ ناظرین آپ لوگ خود سوچ لیں کہ قطعی معنے تو انہی معنوں کو کہا جاتا ہے جن کی دوسری وجوہ سرے سے پیدا نہ ہوں یا پیدا تو ہوں۔ لیکن قطعیت کا مدعی دلائل شافیہ سے ان تمام مخالف معنے کو توڑ دے۔ لیکن مولوی صاحب نے اب تک ابن عباس اور عکرمہ کے معنوں اور قبل موتہم کی قراء ت کو توڑ کر نہیں دکھلایا ان کا توڑنا تو صرف ان دو باتوں میں محدود تھا اول یہ کہ مولوی صاحب صاف بیان سے اس بات کو ثابت کردیتے کہ ابن عباس اور عکرمہ ان کے اجماعی قاعدہ نحو سے بکلّی بے خبر اور غافل تھے اور انہوں نے سخت غلطی کی کہ اپنے بیان کے وقت نحو کے قواعد کو نظر انداز کردیا۔ دوسرے مولوی صاحب پر یہ بھی فرض تھا کہ قراء ت شاذہ قبل موتہم کے راوی کا صریح افترا ثابت کرتے اور یہ ثابت کر کے دکھلاتے کہ یہ حدیث موضوعات میں سے ہے۔ مجرد ضعف حدیث کا بیان کرنا اس کو بکلی اثر سے روک نہیں سکتا۔ امام بزرگ حضرت ابوحنیفہ فخر الائمہ سے مروی ہے کہ میں ایک ضعیف حدیث کے ساتھ بھی قیاس کو چھوڑ دیتا ہوں۔ اب کیا جس قدر حدیثیں صحاح ستہ میں بباعث بعض راویوں کے قابل جرح یا مرسل اور منقطع الاسناد ہیں وہ بالکل پایۂ اعتبار سے خالی اور بے اعتبار محض ہیں؟ اور کیا وہ محدثین کے نزدیک موضوعات کے برابر سمجھی گئی ہیں؟ ناظرین متوجہ ہو کر سنو اب میں اس بات کا بھی فیصلہ کرتا ہوں کہ اگر فرض کے طور پر ابن عباس اور عکرمہ اور مجاہد اور ضحاک وغیرہ کے معنے جو مخالف مولوی صاحب کے معنوں کے ہیں غلط ٹھہرائے جاویں اور قبول کیا جائے کہ یہ تمام اکابر اور بزرگ مولوی صاحب کے اجماعی قاعدہ نحو سے عمداً یا سہواً باہر چلے گئے تو پھر بھی مولوی صاحب کے معنے قطعیۃ الدلالت نہیں ٹھہر سکتے۔ کیوں نہیں ٹھہر سکتے؟ اس کی وجوہ ذیل میں لکھتا ہوں۔ (۱) اول یہ کہ مولوی صاحب کے ان معنوں میں کئی امور ہنوز قابل بحث ہیں جن کا وہ یقینی