کےؔ لگنے کی وجہ سے خالص استقبال کے معنوں میں ہوگیا ہے اور خالص استقبال کے معنے صرف اسی طریق بیان سے محفوظ رہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کا کسی آئندہ زمانہ میں نازل ہونا قبول کر کے پھر اس زمانہ کے اہل کتاب کی نسبت یہ اعتقاد رکھا جائے کہ وہ سب کے سب حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آویں گے اور فرماتے ہیں کہ جو حضرت ابن عباس وغیرہ صحابہ نے اسکے مخالف معنے کئے ہیں اور قبل موتہٖ کی ضمیر کتابی کی طرف پھیر دی ہے یہ معنے ان کی نحو کے اجماعی قاعدہ کے مخالف ہیں۔ کیوں مخالف ہیں؟ اس وجہ سے کہ ایسے معنوں کے کرنے سے لفظ لیؤمننّ کا خالص استقبال کیلئے مخصوص نہیں رہتا۔ سو مولوی صاحب کی اس تقریر کا حاصل کلام یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ ابن عباس اور عکرمہ اور ابی ابن کعب وغیرہ صحابہ نحو نہیں پڑھے ہوئے تھے اور نحو کے وہ اجماعی قواعد جو مولوی صاحب کو معلوم ہیں انہیں معلوم نہیں تھے اسلئے وہ ایسی صریح غلطی میں ڈوب گئے جو انہیں وہ قاعدہ یاد نہ رہا جس پر تمام نحویوں کا اجماع اور اتفاق ہوچکا تھا بلکہ انہوں نے اپنی زبان کا قدیمی محاورہ بھی چھوڑ دیا جس کی پابندی طبعاً ان کی فطرت کے لئے لازم تھی۔ ناظرین برائے خدا غور فرماویں کہ کیا مولوی صاحب اس بات کے مجاز ٹھہر سکتے ہیں کہ ابن عباس جیسے جلیل الشان صحابی کو نحوی غلطی کا الزام دیویں۔ اور اگر مولوی صاحب نحوی غلطی کا ابن عباس پر الزام قائم نہیں کرتے تو پھر کیا کوئی اور بھی وجہ ہے جس کے رو سے مولوی صاحب کے خیال میں ابن عباس کے وہ معنے اس آیت متنازع فیہ میں رد کے لائق ہیں جن کی تائید میں ایک قراء ت شاذہ بھی موجود ہے یعنی قبل موتھم۔ فرض کرو کہ وہ قراء ت بقول حضرت مولوی صاحب ایک ضعیف حدیث ہے مگر آخر حدیث تو ہے۔ یہ تو ثابت نہیں ہوا کہ وہ کسی مفتری کا افترا ہے پس وہ کیا ابن عباس کے معنوں کو ترجیح دینے کیلئے کچھ بھی اثر نہیں ڈالتی یہ کس قسم کا تحکم ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ ابن عباس کے یہ معنے نحوی قاعدہ کے مخالف ہیں اور قراء ت قبل موتہم کسی راوی کا افترا ہے۔ ابن عباس اور عکرمہ پر یہ الزام دینا کہ وہ نحوی قاعدہ سے بے خبر تھے میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا مولوی صاحب یا کسی اور کا حق ہے کہ ان بزرگوں پر ایسا الزام رکھ سکے جن کے گھر سے ہی نحو نکلی ہے۔ ظاہر ہے کہ نحو کو ان کے محاورات اور ان کے فہم کی تابع ٹھہرانا چاہئے نہ کہ ان کی بول چال اور ان کے فہم کا محک اپنی خود تراشیدہ نحو کو قرار دیا جائے۔
اب اگر مولوی صاحب اپنی ضد کو کسی حالت میں چھوڑنا نہیں چاہتے اور ابن عباس اور عکرمہ کو