تحریرؔ ی مباحثہ شروع کر کے اس بات کا ثابت کرنا اپنے ذمہ لیا تھا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم زندہ اپنے خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور آسمان پر اسی خاکی جسم کے ساتھ زندہ موجود ہیں۔ اب اے ناظرین یہ عاجز آپ صاحبوں کی خدمت میں صاف اور سہل اور مختصر طور پر اس بات کو بیان کرنا چاہتا ہے کہ مولوی صاحب موصوف نے اپنے اس دعویٰ کا اپنے تین پرچوں میں کیا ثبوت دیا اور میری طرف سے اس ثبوت کے باطل اور ہیچ اور لغو محض ہونے پر اپنے اس تیسرے پرچہ تک کیا کیا ثبوت پیش ہوا ہے تا آپ لوگ خود منصف بن کر دیکھ لیں کہ کیا درحقیقت مولوی صاحب نے کسی قطعیۃالدلالت آیت سے جیسا کہ ان کا دعویٰ تھا حضرت مسیح ابن مریم کا خاکی جسم کے ساتھ زندہ ہونا ثابت کر دکھایا ہے یا وہ ایسے قطعی ثبوت پیش کرنے سے ناکام رہے اور کوئی ایسی آیت پیش نہ کرسکے کہ جو یقینی اور قطعی طور پر حضرت مسیح کی جسمانی زندگی پر دلالت کرتی ہو اور بنظر تحقیق کوئی دوسرے معنی مخالف ان معنوں کے اس سے نکل نہ سکتے ہوں۔
سو میں آپ صاحبوں کو سناتا ہوں کہ اول حضرت مولوی صاحب نے اپنے اس دعوے کی تائید میں کہ حضرت مسیح جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہیں پانچ آیتیں اپنی طرف سے پیش کی تھیں پھر چار آیتوں کو تو خود اس اقرار کے ساتھ چھوڑ دیا کہ ان سے حضرت مسیح کا جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہونا قطعی طور پر ثابت نہیں ہوتا یعنی یہ کئی احتمال رکھتی ہیں اور قطعیۃ الدلالت نہیں ہیں اور تمام مدار اپنے دعوے کا اس آیت پر رکھا کہ جو سورت النساء میں موجود ہے اور وہ یہ ہے ۲پ۶ مولوی صاحب اس آیت کو حضرت عیسیٰ کی جسمانی زندگی پر قطعیۃ الدلالت قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس آیت کے قطعی طور پر یہی معنے ہیں کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں کہ جو عیسیٰ پر اس کی موت سے پہلے ایمان نہیں لائے گا۔ اور چونکہ اب تک تمام اہل کتاب کیا عیسائی اور کیا یہودی حضرت عیسیٰ پر سچا اور حقیقی ایمان نہیں لائے بلکہ کوئی ان کو خدا قرار دیتا ہے اور کوئی ان کی نبوت کا منکر ہے اسلئے ضروری ہے کہ حسب منشاء اس آیت کے حضرت عیسیٰ کو اس زمانہ تک زندہ تسلیم کر لیا جائے جب تک کہ سب اہل کتاب اس پر ایمان لے آویں۔ مولوی صاحب اس بات پر حد سے زیادہ ضد کررہے ہیں کہ ضرور یہ آیت موصوفہ بالا حضرت مسیح کی جسمانی زندگی پر قطعی طور پر دلالت کرتی ہے اور یہی صحیح معنے اسکے ہیں کسی دوسرے معنے کا احتمال اس میں ہر گز نہیں اور اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ گو بعض صحابہ اور تابعین اور مفسرین نے اور بھی کتنے معنے اس آیت کے کئے ہیں مگر وہ معنے صحیح نہیں ہیں۔ کیوں صحیح نہیں ہیں؟ اس کا سبب یہ بتلاتے ہیں کہ اس جگہلیؤمننّ کا صیغہ نون ثقیلہ