عرؔ ب عرباء سے یہ دلیل ہے اور بجائے اسکے قاعدہ صحیحہ فلاں ہے یا یہ کہ فہم معنی قرآن کیلئے کوئی قاعدہ مقرر نہیں ہے جس طرح کوئی چاہے قرآن کے معنے گھڑ سکتا ہے اور در صورت تسلیم قاعدہ اور تسلیم تخصیص مضمون آیت بزمانہ استقبال اس مضمون کے تخصیص زمانہ نزول مسیح سے فلاں دلیل کی شہادت سے باطل ہے یا اس تخصیص سے جو فائدہ بیان کیا گیا ہے وہ اور صورتوں اور معنی سے بھی جو بیان کئے گئے ہیں حاصل ہوسکتا ہے اور اگر مجرد اختلاف مفسرین تفسیر آیت میں اس تخصیص کا مبطل ہوسکتا ہے اور مجرد اقوال مفسرین آپ کے نزدیک لائق استدلال و استناد ہیں تو آپ مفسرین صحابہ و تابعین کے ان اقوال کو جو درباب حیات مسیح وارد ہیں قبول کریں یا ان کے ایسے معنے بتاویں جن سے وفات مسیح ثابت ہو۔ ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ جہان کے مفسرین اور جملہ صحابہ و تابعین ہمارے ساتھ ہیں ان میں کوئی اس کا قائل نہیں مسیح ابن مریم اب زندہ نہیں ہیں آپ ایک صحابی یا ایک تابعی یا ایک امام مفسر سے بہ سند صحیح اگر یہ ثابت کردیں کہ حضرت مسیح اب زندہ نہیں ہیں تو ہم دعویٰ حیات مسیح سے دست بردار ہوجائیں گے۔ لیجئے ایک ہی بات میں بات طے ہوتی ہے اور فتح ہاتھ آتی ہے اب اگر آپ یہ ثابت نہ کرسکے تو ہم سے جملہ مفسرین و صحابہ و تابعین کے اقوال سنیں جن کو ہم آئندہ پرچہ میں نقل کریں گے آپ مانیں یا نہ مانیں عام ناظرین تو اس سے فائدہ اٹھائیں گے اور اس سے نتیجہ بحث نکالیں گے آپ سے ہم کو امید نہیں رہی کہ آپ اصل مدعا کی طرف آئیں اور زائد باتوں کو چھوڑ کر صرف وہ دو حرفی جواب دیں جو اس منصفانہ جواب میں آپ سے طلب کیا گیا ہے۔ واخر دعواناان الحمد للّٰہ رب العلمین والصلٰوۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد وآلہ وصحبہ اجمعین۔
دستخط محمد بشیر عفی عنہ ۲۷ ؍اکتوبر ۱۸۹۱ء
نمبر ۳
حضرت اقدسؑ مرزا صاحب
بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدَہ‘ وَ نُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم
سبحانک مااعظم شانک تھدی من تشاء و تضل من تشاء و تعلم من تشاء من لّدنک عِلْمًا۔ اما بعد اے ناظرین آپ صاحبوں پر واضح ہے کہ حضرت مولوی محمد بشیر صاحب نے مجھ سے