قوؔ لہ ہم نے تفاسیر معتبرہ کے ذریعہ سے اس کی اسناد پیش کردی ہیں۔ اقول سند میں جو جرح ہے وہ میں نے اوپر بیان کردی فتذکر۔ قولہ بھلا اگر آپ حق پر ہیں تو تیرہ سو برس کی تفسیروں میں سے کوئی ایسی تفسیر تو پیش کیجئے جو ان معنوں کی صحت پر معترض ہو ۔اقول تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن کثیر اس معنی کی صحت پر معترض ہیں۔قولہ الہامی معنے جو میں نے کئے ہیں وہ درحقیقت ان معنوں کے معارض نہیں۔ اقول یہ محض غلط ہے کیونکہ الہامی معنے کا مدار اس پر ہے کہ ضمیر موتہٖ کی راجع طرف عیسیٰ عم کے ہے اور معنی مذکور کا مدار اس پر ہے کہ ضمیر موتہٖ کی راجع طرف کتابی کے ہے پس سخت تعارض و بین تخالف موجود ہے۔ مجھ کو سخت تعجب ہے آپ کی دیانت سے کہ آپ باوجودیکہ ضمیر موتہٖ کا مرجع عیسیٰؑ ہونا اپنی کتب میں تسلیم کرچکے ہیں اور آیت وان من اھل الکتاب کو صریحۃالدلالۃ وفات عیسیٰؑ پر کہتے ہیں پھر اس اقراری حق سے کیوں اعراض کرتے ہیں اور ۱ کے وعید سے نہیں ڈرتے۔قولہ کیونکہ ہمارے نزدیک حال کسی ٹھہرنے والے زمانہ کا نام نہیں ہے۔ اقولیہ امر مسلم ہے بے شک زمانہ نام مقدار غیر قارکا ہے اور حال ایک فرد ہے زمانہ کا اور حد حقیقی حال کے باعتبار عرف کے یہی ہے کہ تکلم فعل کے پہلے کا زمانہ تو ماضی ہے اورتکلم فعل کے بعد کا زمانہ مستقبل ہے اور تکلم فعل کے مبدا سے منتہٰی تک زمانہ حال ہے اس بنا پر ظاہر ہے کہ استقبال قریب ہرگز حال نہیں ہوسکتا ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ فَوَلِّکے تکلم کا زمانہ بعد ہے زمانہ تکلم فَلَنُوَلِّیَنَّک سے پس اس کے استقبال ہونے میں کیا شک ہے۔ قولہ جب آپ خود مستقبل قریب کے قائل ہوگئے اسی طرح وہ بھی قائل ہیں ۔اقول فرق نہ کرنا درمیان مستقبل قریب و حال کے محصلین سے بعید ہے جیسا کہ ماہر علم نحو پر بلکہ قاصر پر بھی مخفی نہیں ہے۔قولہ یہ تو ہم نے تسلیم کیا کہ وعدہ ہے مگر یہ کہاں سے ثابت ہے کہ وعدہ آنے والے لوگوں کیلئے خاص ہے ۔اقول یہ کس نے کہا کہ یہ وعدہ آنے والے لوگوں کیلئے ہی خاص ہے بلکہ یہ کہا گیاہے کہ اس کا ایفاء زمانہ آئندہ ہی میں ہوسکتا ہے نہ حال میں اور اس بات میں جو آپ نے طول کیا ہے اس کو اصل مطلب سے کچھ علاقہ نہیں اور ہم کو اس سنت اللہ سے ہرگز انکار نہیں کہ مجاہدہ کرنے پر ضرور ہدایت مرتب ہوتی ہے صرف بحث اس میں ہے کہ یہ سنت اللہ ان آیات وعدو و عید سے ثابت نہیں ہے بلکہ اس کیلئے دوسری آیات دلیل ہیں۔قولہ اب دیکھئے کہ ان آیات سے بھی آپ کا دعویٰ قطعیۃ الدلالت ہونا آیت لیؤمننّ بہٖ کا کس قدر باطل ثابت ہوتا ہے۔ اقول آیات منافی قطعیۃ الدلالت ہونے آیت لیؤمننّ کے نہیں بلکہ آیت لیؤمننّ آیات مذکورہ کے مخصص واقع ہوئی ہے۔قولہ حلیم وہ ہے جو یبلغ الحلم کا مصداق ہو۔ اقولیہ حصر غیر مسلم ہے کیونکہ حلیم قرآن مجید میں صفت غلام کی آئی ہے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ۲ اور غلام کے معنے کودک صغیر کے ہیں کما فی الصراح پس محتمل ہے کہ حلیم اس مقام پر ماخوذ حلم سے