ہوؔ جو آہستگی و بردباری کے معنے میں ہے کما فی الصراح ۔ قاموس میں ہے والحلم بالکسر الاناء ۃ والعقل جمعہ احلام و حلوم و منہ ام تامرھم احلامھم وھو حلیم جمع حلماء و احلامًا۔قولہجب کہ عیسٰے بن مریم کی حیات ہی ثابت نہیں ہوتی اور موت ثابت ہورہی ہے تو عیسیٰ کے حقیقی معنے کیونکر مراد ہوسکتے ہیں ۔اقول اس کلام میں بدووجہ شک ہے شک اول یہ کہ آیت وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ سے آپ کے اقرار سے صراحتاً موت ثابت ہے کیونکہ آپ نے توضیح المرام و ازالۃ الاوہام میں اقرار کیا ہے کہ ضمیر موتہٖ کا عیسیٰ کی طرف راجع ہے اور بعد اقرار اس امر کے حیات کا اقرار لازم آتا ہے کمامرّ تقریرہ بحیث لایحوم حولہ۔شک دوم برتقدیر موت بھی نزول خود حضرت عیسیٰ کا نہ محال عقلی ہے اور نہ محال عادی اور جو چیز محال عادی و عقلی نہ ہو اور مخبر صادق اس کی خبر دے تو اس سے انحراف جائز نہیں اور احادیث صحیحہ میں نزول عیسیٰ ؑ کی خبر متواتر موجود ہے۔قولہ جب آپ حیات مسیح کو ثابت کر دکھائیں گے تو پھر ان کا نزول بھی مانا جائے گا ۔ اقولاس میں کچھ ملازمۃ نہیں برتقدیر وفات بھی نزول کے نہ ماننے کی کوئی وجہ معقول نہیں ہے۔ قولہ ورنہ بخاری میں وہ حدیثیں بھی ہیں جن میں ابن مریم کا ذکر کرکے ان سے مراد کوئی مثیل لیا گیا ہے ۔اقولظاہر اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سوائے احادیث نزول کے دیگر احادیث بھی بخاری میں ایسی ہیں جن میں ابن مریم کا ذکر کر کے اس سے مراد اس کا کوئی مثیل لیا گیا ہے پس آپ کو چاہئے کہ براہِ عنایت ان احادیث کو نقل فرمایئے تاکہ اس میں نظر کی جاوے کہ وہاں مثیل مراد لیا گیا ہے یا نہیں ۔ قولہ افسوس کہ اب تک آپ کچھ پیش نہ کرسکے۔ اقول ۔افسوس کہ باوجود اسکے کہ آپ کے اقرار سے حیات مسیح آیت وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ کے صراحۃً ثابت ہوگئی پھر بھی آپ ایسا فرماتے ہیں۔ انّا للّٰہ وانّا الیہ راجعون والی اللّٰہ المشتکی اب سنئے یہ تو آپ کی تحریر کا جواب ترکی بترکی ہوا اب ایک نہایت منصفانہ اور فیصلہ کرنے والا جواب دیا جاتا ہے آپ اگر انصاف کے مدعی اور حق کے طالب ہیں تو اسی جواب کا جواب دیں اور جواب ترکی بترکی سے تعارض نہ کریں ایسا کریں گے تو یقیناً سمجھا جائے گا کہ آپ فیصلہ کرنا نہیں چاہتے اور اِحقاق حق سے آپ کو غرض نہیں ہے وہ جواب یہ ہے کہ مرزا صاحب! میں نے کمال نیک نیتی سے اِحقاق حق کی غرض سے اپنے ان جملہ دلائل کو جن کو میں اس وقت پیش کرنا چاہتا تھا یکبارگی قلم بند کر کے آپ کی خدمت میں پیش کردیا اور اسکے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا تھا کہ میرا اصل متمسک اور مستقل دلیل پہلی آیت ہے اور اسکے قطعیۃ الدلالت کے ثبوت میں قواعد نحویہ اجماعیہ کو پیش کیا آپ بھی نیک نیت اور طالب حق ہوتے تو اسکے جواب میں دوصورتوں میں سے ایک صورت اختیار کرتے یا تو میرے جملہ دلائل و جوابات سے تعرض کرتے اور ان میں سے ایک بات کا جواب بھی باقی نہ چھوڑتے یا صرف میری اصل دلیل سے تعرض فرماتے