انؔ ھذا الذی قالہ ابن جریر ھو الصحیح المقصود من سیاق الآی فی تقریر بطلان ماادعتہ الیہود من قتل عیسٰی و صلبہ و تسلیم من سلم لھم من النصارٰی الجھلۃ ذالک۔ انتھٰی۔ قولہ اور میں نے جو آپ کے قاعدہ نون ثقیلہ کا نام جدید رکھا تو اس کی یہ وجہ ہے کہ اگر آپ کا یہ قاعدہ تسلیم کر لیا جاوے نعوذ باللہ بقول آپ کے ابن عباس جیسے صحابی کو جاہل نادان قرار دینا پڑتا ہے۔اقول میں نے تو وہی معنے جو تمام صحابہ و تابعین و غیر ھم سے منقول ہیں اور وہی قاعدہ جو عامہ مسلمین کامعمول رہا ہے لکھے ہیں البتہ آپ کے مسائل مخترعہ کی بنا پر سارے صحابہ کو جاہل ماننا پڑتا ہے فما ہو جو ابکم فہو جوابی علاوہ اس کے اول صحابہ کے کلام میں کہیں تصریح معنے حال کی نہیں ہے ان کا کلام معنے مستقبل پر بھی محمول ہوسکتا ہے جیسا کہ آپ تحریر اول میں اس کا اعتراف کر چکے ہیں باقی رہا یہ امرکہ جن لوگوں نے ضمیر کتابی کی طرف پھیری ہے وہ اس امر میں خطا پر ہیں یہ کوئی مقام استبعاد نہیں۔ آپ بہت سے صحابہ کو اکثر مسائل میں خطا پر جانتے ہیں۔قولہ اور قراء ت قبل موتہمکو خواہ نخواہ افترا قرار دینا پڑے گا۔ اقول خواہ نخواہ چہ معنے دارد۔ قراء ت مذکورہ فی الواقع ضعیف ہے لائق احتجاج نہیں۔کما مربیانہ اٰنفا۔قولہ کیا آپ کا یہ نحوی قاعدہ ان اکابر کو جاہل قرار دے سکتا ہے اور کیا صدہا مفسرین کو بلکہ ہزارہا جواب تک یہ معنے کرتے آئے وہ جاہل مطلق اور آپ کے نحو سے غافل تھے۔ اقول سراسر مبنی سوء فہم پر ہے معنے مذکور کا فساد اس وجہ سے نہیں کہ وہ مخالف ہے قاعدہ نحو کے بلکہ یہ معنے تو سراسر موافق ہیں قاعدہ نحو کے کیونکہ اس معنے پر تو مضارع صریح بمعنے استقبال کیا گیا ہے ذرا سوچ کر جواب دیجئے۔ قولہ کوئی مبسوط تفسیر تو پیش کرو جوان معنوں سے خالی ہے یاجس نے ان معنوں کو سب سے مقدم نہ رکھا اِلٰی قَولہٖ بلکہ سب کے سب آپ ہی کے معنوں کو ضعیف ٹھہراتے ہیں ۔ اقول دو بڑی تفسیریں معتبر پرانی پیش کرتا ہوں ایک تفسیر ابن کثیر دوسری تفسیر ابن جریر کہ ان دونوں نے معنے مذکور کو مقدم نہیں رکھا اور نہ میرے معنے کو ضعیف کہا بلکہ صحت کی تصریح کی ہے۔ پس اس مقام پر کذب اس قول کا کَالشّمس فی نصف النھارظاہر ہوگیا۔ قولہ حضرت اس قراء ت سے حضرت مسیح ابن مریم کی زندگی کیونکر اور کہاں ثابت ہوئی اب تو قبل موتہٖ کے ضمیر سے مسیح کی زندگی ثابت کرنی تھی۔ اقول یہ قول بھی سوء فہم پر مبنی ہے میں نے یہ نہیں کہا ہے کہ قراء ت مذکورہ سے مسیح بن مریم کی زندگی ثابت ہے میں نے تو صرف یہ کہا ہے کہ قراء ت مذکورہ مخالف ہمارے معنے کے نہیں بالجملہ مقصود رفع مخالفت ہے نہ اثبات دعویٰ وبینہما فرق ہے۔