ہےؔ صدوق سیّیء الحفظ خلط بآخرہ رمی بالارجاء ۔میزان میں ہے ضعفہ احمد وقال ابوحاتم تکلم فی سوء حفظہ وقال احمد ایضاتکلم فی الارجاء وقال عثمان بن عبدالرحمٰن رأیت علی خصیف ثیابا سودا کان علی بیت المال انتھی ملخصًا۔عتاب کے ترجمہ میں میزان میں مرقوم ہے قال احمد أَتی عن خصیف بمناکیر اراھا من قبل خصیف قال النسائی لیس بذا ک فی الحدیث وقال ابن المدینی کان اصحابنا یضعفونہ وقال علی ضربنا علی حدیثہ انتہی ملخصًا۔قولہ اور بلاشبہ قراء ت شاذہ حکم صحیح حدیث کا رکھتی ہے۔ اقولعموماً یہ بات غلط ہے۔ ہاں قراء ت شاذہ جو بسند صحیح متصل کہ شذوذ ودیگر علل خفیہ غامضہ قادحہ سے خالی ہو البتہ حکم حدیث صحیح کا رکھتی ہے اور ابھی واضح ہوا کہ اس کی سند میں دو رجال مجروح ہیں ۔ قولہ اب فرض کے طور پر اگر قبول کر لیں کہ اگر ابن عباس اور علی ابن طلحہ اور عکرمہ وغیرہ صحابہؓ ان معانوں کی سمجھ میں خطا پر تھے اور قراء ت ابی ابن کعب بھی یعنے قبل موتہم کامل درجہ پر ثابت نہیں۔ تو کیا آپ کے دعوی قطعیۃ الدلالت ہونے آیت لیؤمننّ بہٖ پر اس کا کچھ بھی اثر ٹھہرا کیا وہ دعویٰ جس کے مخالف صحابہؓ کرام بلند آواز سے شہادت دے رہے ہیں اور دنیا کی تمام مبسوط تفسیریں باتفاق اس پر شہادت دے رہی ہیں اب تک قطعیۃ الدلالۃہے۔ اقول نہ صحابہ کا اتفاق خلاف پر ہے اور نہ تمام تفسیروں کا ہاں دو قول مرجع ضمیر قبل موتہ میں البتہ منقول ہیں اس سے قطعیۃ الدلالۃ اور صریح الدلالۃ ہونے میں فرق نہیں آتا ہے اس کے نظائر کتاب و سنت میں بکثرت موجود ہیں من شاء فلیرجع الیھماعلاوہ اس کے اس بنا پر آپ کے ادلہ وفات میں سے آیت انّی متوفّیک آیت فلمّا توفّیتنی وآیت وان من اھل الکتاب بھی نہ قطعیۃ الدلالت ٹھہرتی ہے نہ صریحۃ الدلالۃ کیونکہ ان آیات میں چند اقوال منقول ہیں فماھوجوابکم فھو جوابنا۔ قولہ مگر آپ جانتے ہیں کہ اکابر صحابہ اور تابعین سے کسی گروہ نے آپ کے معنے قبول نہیں کئے ہیں۔ اقول یہ کذب صریح ہے تحریر اول میں عبارت ابن کثیر نقل کی گئی ہے اس سے ابن عباس و ابومالک و حسن بصری وقتادہ وعبدالرحمان بن زید بن اسلم وغیر واحد کا اس معنی کو قبول کرنا ثابت ہے اور ابوہریرہؓ کا اس معنے کو قبول کرنا صحیحین میں مصرح ہے۔ ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہ معنے بدلیل قاطع ثابت ہیں اور بھی ابن کثیر میں ہے واولٰی ھذہ الاقوال بالصحۃ القول الاول وھوانہ لایبقٰی احد من اھل الکتاب بعد نزول عیسٰی علیہ السلام الاآمن بہٖ قبل موتہٖ ای قبل موت عیسٰی علیہ السلام ولاشک