کےؔ لئے قطعیۃ الدلالۃ نہیں قرار دیا ہے کچھ اور ہی معنی لکھے ہیں۔قولہ پھر نووی میں یہ عبارت لکھی ہے ۔اقول نووی کی عبارت سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ اکثروں نے ضمیر موتہٖ کی کتابی کی طرف راجع کی ہے اس سے آپ کے نزدیک بھی قطعیۃ الدلالۃ میں فرق نہیں ہوتا ہے کیونکہ آپ کے نزدیک آیت وانی متوفیک و آیت فلمّا توفّیتنی‘ قطعیۃ الدلالۃ ہے وفات مسیح پر۔ حالانکہ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے وقال الاکثرون المراد بالوفاۃ ھٰذا النوم انتھٰی۔اور ایسا ہی آپ کے نزدیک آیت وان من اھل الکتاب دلیل صریح ہے وفات مسیح علیہ السلام پر اور حالانکہ وفات مسیح کا اس میں رایحہ بھی نہیں ہے نہ بر تقدیر اس قول کے جس کو نووی نے اکثرین کا قول قرار دیا ہے اور نہ برتقدیر قول آخر کے جو اس کا مقابل ہے اس کے بعد آپ نے عبارت مدارک اور بیضاوی و تفسیر مظہری کی نقل کی ہے اور ہر ایک کا ترجمہ کر کے اوراق کو بڑھایا ہے اور حالانکہ ان سب سے اور کسی امر جدید کا فائدہ نہیں ہے سوائے اسکے ضمیر موتہٖ میں اختلاف ہے اور اوپر ثابت ہوا کہ مجرد اختلاف معانی قطعیت و دلالت صریحہ کے مخالف نہیں ہے ورنہ چاہئے کہ آپ سے ادلہ وفات آیت انّی متوفّیک اور آیت فلمّا توفّیتنی اور آیت وان من اھل الکتاب ادلہ قطعیہ اور دلیل صریح نہ ہوں وھوخلاف ما ادعیتم اور تفسیر مظہری والے کا یہ قول وکیف یصح ھذا التاویل ماان کلمۃ ان من اھل الکتاب شامل للموجودین فی زمن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔البتہ سواء کان ھذا الحکم خاصًا بھم اولا فان حقیقۃ الکلام للحال ولاوجہ لان یراد بہ فریق من اھل الکتاب یوجدون حین نزول عیسٰی علیہ السلام مخدوش ہے۔ اور مخالف ہے عامہ تفاسیر کے کیونکہ کلام کا حال کیلئے حقیقت ہونا اس تقدیر پر ہے کہ کوئی صارف نہ پایا جاوے اور یہاں نون تاکید صارف موجود ہے اور یہی وجہ ہے اس امر کی اہل کتاب سے ایک فریق خاص مراد لیا جاوے پس صاحب تفسیر مظہری کا یہ قول لاوجہ کوئی وجہ نہیں رکھتا اور یہ جو تفسیر مظہری میں ہے اخرج ابن المنذرعن ابی ھاشم و عروۃ قال فی مصحف ابی بن کعب وان من اھل الکتاب الا لیومننّ بہ قبل موتھم مخدوش ہے کہ تفسیر مظہری میں اس قراء ت کی پوری سند مذکور نہیں ابن کثیر نے اس قراء ت کو اس طرح پر روایت کیا ہے حدثنی اسحاق بن ابراھیم ابن حبیب الشھید حدثنا عتاب بن بشیر عن خصیف عن سعید بن جبیر عن ابن عباس وان من اھل الکتاب الا لیؤمننّ بہ قبل موتہ قال ھی فی قراء ت ابی قبل موتھم اس میں دوراوی مجروح ہیں اول خصیف دوم عتاب ابن بشیر۔ خصیفکے ترجمہ میں تقریب میں لکھا