ہیںؔ ۔ اقول ۱ قولہ اور اس خیال خام کی نحوست سے آپ کو تمام اکابر کی نسبت بدظنی کرنی پڑی۔ اقول ۔آپ ان اکابر کا مطلب نہیں سمجھے ہیں فَافہم۔ قولہ ابھی میں انشاء اللہ تعالیٰ یہ آپ پر ثابت کردوں گا کہ آیت لیؤمننّ بہٖ آپ کے معنوں پر اس صورت میں قطعیۃ الدلالۃ ٹھہر سکتی ہے جب ان سب بزرگوں کے قطعی الجہالت ہونے پر فتویٰ لکھا جاوے اور نعوذ باللہ نبی معصوم کو بھی اس میں داخل کردیا جاوے۔اقول توضیح المرام سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت ۲ بتصریح وفات مسیح پر دلالت کرتی ہے صفحہ ۸ میں مرقوم ہے اور قرآن شریف میں اگرچہ حضرت مسیح کے بہشت میں داخل ہونے کا بتصریح کہیں ذکر نہیں لیکن ان کے وفات پاجانے کا تین جگہ ذکر ہے حاشیہ میں وہ تین آئتیں آپ نے لکھی ہیں ان میں سے آیت بھی ہے ازالۃ الاوہام کے صفحہ ۳۸۵ میں ہے۔ غرض قرآن شریف میں تین جگہ مسیح کا فوت ہو جانا بیان کیا گیا ہے۔ ازالۃ الاوہام صفحہ ۳۰۶ میں ہے۔چوتھی آیت جو مسیح کی موت پر دلالت کرتی ہے وہ یہ آیت ہے کہ’’ ‘‘ انتہی۔ جاننا چاہئے کہ آپ کی یہ تقریر بادنیٰ تغیر آپ پر منعکس ہو جاتی ہے۔ تقریر اس کی یہ ہے کہ آیت لیؤمننّ کی وفات مسیح پر اس وقت صریحۃ الدلالۃ ٹھہر سکتی ہے کہ ان سب بزرگوں کی جہالت پر فتویٰ لکھا جاوے نعوذ باللہ نبی معصوم کو بھی ان میں داخل کیا جاوے۔ ورنہ آپ کبھی اور کسی صورت میں دلالت کا فائدہ حاصل نہیں کرسکتے۔ قولہ اب میں آپ پر واضح کرتا ہوں کہ کیا اکابر مفسرین نے اس آیت کو حضرت عیسیٰ کے نزول کیلئے قطعیۃ الدلالۃ قرار دیا ہے یا کچھ اور بھی معنے لکھے ہیں۔اقول یہ طعن بادنیٰ تغیر آپ پر بھی وارد ہوتے ہیں بلکہ جو آپ نے طعن کی ہے اس سے اشد ہے یعنے آپ نے فرمایا ہے کہ آیت موت مسیح پر دلالت کرتی ہے اور آپ کی بعض عبارات سے مستنبط ہوتا ہے کہ یہ دلالت صریحی ہے۔ پس کیا اکابر مفسرین نے اس آیت کو حضرت عیسیٰ کی وفات پر دلیل ٹھہرایا ہے۔ ایک نے بھی نہیں۔قولہ کشّاف صفحہ ۱۹۹ میں لیومنن بہ کی آیت کے نیچے یہ تفسیر ہے آہ اقول اس عبارت سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ مفسرین نے قطعیۃ الدلالۃ ہونے کی تصریح نہیں کی اسکے معنے لکھے ہیں لیکن مفسرین کا قطعیۃ الدلالۃ تصریح نہ کرنا قطعیتکو باطل نہیں کرتا ہے آپ کے نزدیک انی متوفیک اور لمَّا توفَّیتنی‘ قطعیۃ الدلالۃ ہے موت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حالانکہ مفسرین نے اس آیت کو حضرت عیسیٰ کی موت