تو ؔ آپ فوراً اس قاعدہ کا انکار کر جائیں گے اور یہ بات آپ کی علم و دیانت سے خلاف ہے کیونکہ اہل علم کو ان علوم سے چارہ نہیں ہے اور ہم کو الفاظ قرآن و حدیث کے معانی موافق لغت و محاورہ عرب کے سمجھنا ضروری امر ہے ورنہ کسی مسئلہ پر استدلال نہیں ہوسکتا ہے اور یہ امر فی زماننا غیر ممکن ہے کہ خود عرب میں جا کر ہر لغت و محاورہ اور جمیع قواعد صرف و نحو و معانی وغیرہ کی تحقیق کی جاوے پس اگر آپ کو کسی اہل اسلام سے مباحثہ کرنا منظور ہے تو پہلے ان دو کاموں سے ایک کام کیجئے اور اگر ایک بھی آپ قبول نہ کریں گے تو یہ امر آپ کی گریز پر محمول ہوگا یا تو لغت صرف و نحو ومعانی و اصول فقہ و اصول حدیث کی اجماعی باتوں کی تسلیم کرنے کا اقرار کیجئے یا بالفعل مناظرہ سب اہل اسلام سے موقوف کر کے ایک الگ کتاب علوم مذکورہ میں تصنیف فرمایئے اور جو کچھ اول علموں میں آپ کو ترمیم کرنا ہو وہ کر لیجئے اس کے بعد مباحثہ کیجئے تاکہ آپ کی مسلمات سے آپ کو الزام دیا جاوے ورنہ موافق اس طریقہ کے جو آپ نے اختیار کیاہے کوئی عاقل کسی عاقل کو الزام نہیں دے سکتا ہے۔قولہ آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں ۱ آیت موجود ہے۔ اقولاس کا جواب عامہ تفاسیر میں مذکور ہے۔ عبارت بیضاوی کی اس مقام پر نقل کی جاتی ہے وھذان اسم ان علی لغۃ بلحارث ابن کعب فانھم جعلوا الالف للتثنیۃ واعربوا المثنی تقدیرا وقیل اسمھا ضمیر الشان المحذوف و ھذان لساحران خبرھا وقیل ان بمعنی نعم ومابعد ھامبتداء و خبر فیہما ان اللام لا یدخل خبر المبتداء و قیل اصلہ انہ ھذان لھما ساحران فحذف الضمیر و فیہ ان الموکد بالام لا یلیق بہ الحذف انتہی ۔قولہ جس میں بجائے ان ھذان کے ان ھذین لکھا ہو۔ا قول یہ خطائے فاحش ہے صواب یہ ہے کہ جس میں بجائے ان ھذین کے ان ھذان لکھا ہو قولہ آپ کو یاد ہے کہ میرا یہ مذہب نہیں ہے کہ قواعد موجودہ صرف و نحو غلطی سے پاک ہیں یا بہمہ وجوہ متمم و مکمل ہیں۔ اقول یہ بات اگر قواعد اختلافیہ کی نسبت کہی جاوے تو مسلم ہے لیکن قواعد اجماعیہ کی نسبت ایسا کہنا گویا دروازہ الحاد کا کھولنا اور سب احکام شرعیہ کا باطل کرنا ہے کیونکہ قواعد جب غلط ٹھہرے خود عرب میں جا کر فی زماننا تحقیق لغت و قواعد صرف و نحو غیر ممکن۔ پس پابندی قواعد کی باقی نہ رہے گی ہر شخص اپنی ہوا کے موافق قرآن و حدیث کے معنے کرے گا آپ کو چاہئے کہ قواعد اجماعیہ کے تسلیم کا جلد اشتہار دے دیجئے یا کوئی کتاب لغت و قواعد صرف و نحو موافق قرآن و حدیث کے اپنے اجتہاد سے بنا کر جلد شائع کیجئے تاکہ انہی قواعد کی بنا پر آپ سے بحث کی جاوے ۔ قولہ قرآن کریم ان کی غلطی ظاہر کرتا ہے اور اکابر صحابہ اس پر شہادت دے رہے