کہؔ آیت بوجہ نون ثقیلہ کے خالص استقبال کیلئے ہوگئی ہے۔ اقول یہ قول غلط محض ہے جمہور مفسرین صحابہ اور تابعین نے اس آیت کو ہرگز بمعنی حال یا استمرار نہیں لیا ہے اگر سچے ہو تو ثابت کرو رہی یہ بات کہ بعض مفسرین نے ضمیر کتابی کی طرف راجع کی ہے اس سے معنی حال یا استمرار لینا کسی طرح لازم نہیں آتا ہے سوائے آپ کے کوئی اہل علم ایسی بات منہ سے نہیں نکال سکتا علاوہ ازیں اس تقدیر پر بھی استقبال ہوسکتا ہے جیسا کہ آپ پہلی تحریر میں اقرار کرچکے ہیں۔قولہ ان معنوں پر زور دینے کے وقت آپ نے اس شرط کا کچھ خیال نہیں رکھا جو پہلے ہم دونوں کے درمیان قرار پاچکی تھی کہ قال اللّٰہ وقال الرسول سے باہر نہیں جائیں گے۔اقول ایک قاعدہ نحویہ اجماعیہ کو قال اللّٰہ میں جاری کرنا قال اللّٰہ سے کسی کے نزدیک خارج ہونا نہیں یہ صرف آپ کا اجتہاد ہے جس کا کوئی ثبوت آپ نہیں دے سکتے بلکہ یہ خروج بقول آپ کے آپ پر لازم آگیا کیونکہ آپ خود ازالہ اوہام کے صفحہ ۶۰۲ میں اسکے مرتکب ہوئے ہیں عبارت آپ کی یہ ہے۔ وہ نہیں سوچتے کہ آیت فلما توفیتنیسے پہلے یہ آیت ہے ۱ الخظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اسکے اوّل اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے انتہیٰ۔ ۲ ۔قولہ اور نہ ان بزرگوں کی عزت و مرتبت کا کچھ پاس کیا جو اہل زبان اور صرف اور نحو کو آپ سے بہتر جاننے والے تھے۔ اقول آپ ایسی باتیں کرنے سے لوگوں کو مغالطہ دینا چاہتے ہیں بھلا صاحب اس قاعدہ کے جاری کرنے سے ان بزرگوں کی عزت و مرتبت میں معاذ اللہ کس طرح نقصان آسکتا ہے ان کے کلام میں تصریح حال یا استمرار کی کہاں ہے یہ تو صرف آپ کا اجتہاد ہے۔ آپ اپنے ساتھ ان بزرگوں کو ناحق شریک کرتے ہیں۔قولہہمارے اوپر اللہ و رسول نے یہ فرض نہیں کیا کہ ہم انسانوں کے خود تراشیدہ قواعد صرف و نحو کو اپنے لئے ایسا رہبر قرار دیں کہ باوجودیکہ اس پر کافی و کامل طور پر کسی آیت کے معنی کھل جائیں اور اس پر اکابر مومنین اہل زبان کی شہادت بھی مل جائے تو پھر بھی ہم اس قاعدہ صرف و نحو کو ترک نہ کریں- اقول یہ بات بھی آپ کی سراسر مغالطہ دہی پر مبنی ہے۔ کافی و کامل طور پر آیت کے معنے کا کھل جانا اور اس پراکابر مومنین اہل زبان کی شہادت کا ملنا غیر مسلم ہے ووجھہ مرانفا فتذکر علاوہ اسکے آپ نے جو باوجود نہ کھلنے معنے آیت کے اور عدم شہادت اکابر مومنین اہل زبان کے ایک قاعدہ نحویہ اجماعیہ کا محض اپنی بات بنانے کی غرض سے انکار کیا ہے اس سے یہ احتمال قوی پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ کو الزام علوم لغت و صرف و نحوو معانی اصول فقہ و اصول حدیث سے جو کہ خادم کتاب سنت ہیں دیا جاوے گا