(اقوؔ ل) یہ آپ کا سوء ظن ہے اور ہر مسلم مامور ہے اپنے بھائی کے ساتھ حسن ظن کرنے کیلئے چہ جائیکہ آپ سا شخص مدعی الہام ومجددیت و مسیحیت آپ کو بالاولیٰ حسن ظن چاہئے میں نے صرف ایک امر نفس الامری کا اظہار کردیا ورنہ میں تو بار ثبوت حیات اپنے ذمہ لے چکا ہوں اور اس کا ثبوت ایک قاعدہ نحویہ اجماعیہ کی بناء پر آپ کے روبرو پیش کیا گیا مگر افسوس کہ آپ نے اس قاعدہ اجماعیہ کے انکار میں کچھ حیاء کو کام نہ فرمایا اب میں اس قاعدہ سے قطع نظر کر کے عرض کرتا ہوں۔ بفضلہ تعالیٰ میرا دعویٰ حیات مسیح آپ کے اقرارسے قطعی طور پر ثابت ہے۔ بیان اس کا یہ ہے کہ آپ نے توضیح المرام وازالۃ الاوہام میں اس امر کا اقرار کیا ہے کہ ضمیر موتہٖ کی طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے راجع ہے اب آپ کو چاہئے قاعدہ نحویہ اجماعیہ کو مانئے یا نہ مانئے ہر طرح میرا مدعا ثابت ہے کیونکہ یا تو آپ لیؤمننّکو بمعنے استقبال لیجئے گا یا بمعنے حال یا بمعنی استمرار یا بمعنی ماضی۔ شق اول میں تو میرے مطلوب کا حاصل ہونا محتاج بیان نہیں ہے۔ شق ثانی اول تو بدیہی البطلان ہے سو ااس کے مطلوب میرا اس سے بھی حاصل ہے کیونکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ نزول آیت میں سب اہل کتاب حضرت عیسیٰ عم پر قبل ان کی موت کے ایمان لاتے تھے پس معلوم ہوا کہ زمان نزول آیت تک زندہ تھے اور رفع یقیناً اس سے پہلے ہوا تو معلوم ہوا کہ زندہ اٹھائے گئے وہو المطلوب ۔ شق ثالث اول تو بدیہی البطلان ہے سوا اس کے اس شق مدعا کا ثبوت پر شق اول سے بھی زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اس تقدیر پر یہ معنے ہوں گے کہ سب اہل کتاب زمانہ گزشتہ و حال و استقبال میں حضرت عیسیٰ پر ان کے مرنے سے پہلے ایمان لاتے ہیں پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ زمانہ ماضی و حال میں زندہ تھے اور استقبال میں بھی ایک زمانہ تک زندہ رہیں گے رفع کے وقت زندہ تھے رابع باطل ہے اسلئے کہ ایسا مضارع کہ اس کے اول میں لام تاکید اور آخر میں نون تاکید ہو بمعنی ماضی کہیں نہیں آیا۔ آپ قواعد نحو کو مانتے ہی نہیں ہیں ایسے مضارع کا بمعنی ماضی آنا قرآن یا حدیث صحیح سے ثابت کیجئے و دونہ خرط القتاد افسوس کہ آپکو جب الزام موافق قواعد نحویہ اجماعیہ کے دیا جاتا ہے تو اس کو آپ تسلیم نہیں کرتے اور اگر آپ کے مسلمات سے آپکو الزام دیا جاتا ہے تو بھی آپ قبول نہیں کرتے یہ امر اول دلیل ہے اس بات پر کہ آپکو احقاق حق اور اظہار صواب ملحوظ نظر نہیں ہے۔ قولہ پھر اس کے بعد آپ نے نصوص صریحہ بینہ قرآن وحدیث سے نوامید ہوکر دوبارہ آیت لیؤمننّکے نون ثقیلہ پر زور دیا ہے۔اقول خود آیت وان من اھل الکتاب صریح و بین ہے۔ اور نون ثقیلہ کا بمعنی استقبال کردینا اس کے قطعیت میں مخل نہیں ہے۔قولہ اور جمہور مفسرین صحابہ اور تابعین سے تفرد اختیار کرکے محض اپنے خیال خام کی وجہ سے اس بات پر زور دیا ہے