کیوؔ نکر منکر ہوتے ہیںیہی میرا بیان باقی آیات پیش کردہ میری کے متعلق ہے۔ علیحدہ لکھنے کی حاجت نہیں پبلک خود فیصلہ کر لے گی اور یاد رکھنا چاہئے یہ ترجمے کوئی توقیفی نہیں ہیں۔* آپ کے نون ثقیلے ہرگز آپ کو وہ فائدہ نہیں پہنچا سکتے جس کی آپ کو خواہش ہے۔قولہ حضرت عیسیٰ کے نزول کے بعد اور ان کی موت سے پہلے ایک زمانہ ایسا ضرور ہوگا کہ اس وقت اہل کتاب سب مسلمان ہوجائیں گے۔ اقول حضرت آپ کیوں تکلفات رکیکہ کررہے ہیں آپ کے ان تکلفات کو کون تسلیم کرے گا قرآن کریم اس بات کا گواہ ہے کہ سلسلہ کفر کا بلا فصل قیامت کے دن تک قائم رہے گا اور یہ کبھی نہیں ہوگا کہ سب لوگ ایک ہی مذہب پر ہوجائیں اور اختلاف کفر اور ایمان اور بدعت اور توحید کا درمیان سے اُٹھ جائے چنانچہ اس اختلاف کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ضروری الوجود انسانوں کی فطرت کیلئے قرار دیتا ہے اور کفر کا تخم قیامت تک قائم رہنے کیلئے یہ آیات صریحۃ الدلالت ہیں جو پہلے پرچہ میں لکھ چکا ہوں یعنے ۱؂ اور آیت ۲؂ اب دیکھئے کہ ان آیات سے ہی آپ کا دعویٰ قطعیۃ الدلالت ہونا آیت لیؤمننّ بہٖ کا کس قدر باطل ثابت ہوتا ہے ہریک طرف سے آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ کی آپ پر زَد ہے پھر بھی آپ اس خیال کو نہیں چھوڑتے۔ آپ نے جب دیکھا کہ مسیح کے دم سے بہت لوگ کفر پر مریں گے تو آپ پہلے دعوے سے کھسک گئے لیکن آیات موصوفہ بالا سے آپ کسی طرح پیچھا چھڑا نہیں سکتے۔ آپ نے جو اس بارے میں جواب دیا ہے خود منصف لوگ دیکھیں گے حاجت اعادہ کی نہیں۔ قولہ آپ پر واجب ہے کہ آپ ثابت کریں کہ حلیم کے لفظ سے جو ان مضبوط کیونکر سمجھا جاتا ہے۔ اقول حضرت حلیم وہ ہے جو یبلغ الحلم کا مصداق ہو اور جو حلم کے زمانہ تک پہنچے وہ جو ان مضبوط ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ خورد سال کے کچے اعضا شدت اور صلابت کے ساتھ بدل جاتے ہیں قاموس بھی ملاحظہ ہو اور کشّاف وغیرہ بھی اور بالغ عاقل کیلئے بھی یہی لفظ آیا ہے۔قولہ انّی متوفّیک میں موت مراد ہونا غیر مسلّم ہے۔ اقول غیر مسلّم ہے تو میرے اشتہار ہزار روپیہ کا جواب دیجئے جو ازالہ اوہام کے آخر میں ہے۔ کیونکہ اس اشتہار میں غیرمسلّم ثابت کرنے والے کیلئے ہزار روپیہ انعام کا وعدہ ہے۔ قولہ نزول عیسیٰ ابن مریم سے آپ کو انکار ہے۔ اقول جب کہ عیسیٰ ابن مریم کی حیات ثابت نہیں ہوتی اور موت ثابت ہورہی ہے۔ تو عیسیٰ کے حقیقی معنے کیونکر مراد ہوسکتے ہیں۔واطلاق اسم الشیء علی ما