مقدؔ ار غیر قار کا نام ہے۔ پھر حال اپنے حقیقی معنوں کے رو سے کیونکر متحقق ہو کیونکہ جب زمانہ غیر قار ہے تو ماضی کے بعد ہر دم استقبال ہی استقبال ہے لیکن جب حال بولا جاتا ہے تو اس کے معنے ہرگز حقیقی نہیں لئے جاتے۔ کیونکہ حقیقی معنوں کا مراد رکھنا محال ہے اس وقت تک کہ ہم حال کا لفظ زبان پر جاری کریں کئی باریک حصے زمانہ کے گذر جاتے ہیں پھر حال کا وجود کہاں اور کیونکر متحقق ہے بلکہ حال سے مراد مجازی طور پر وہ زمانہ لیا جاتا ہے جو ہماری نظر کے سامنے واقع ہے جو کسی دوسرے حصہ زمانہ میں تصور نہیں کیا گیا۔ اس صورت میں تو ہماری اور آپ کی نزاع لفظی ہی نکلی اور جس زمانہ کا نام ہم حال رکھتے ہیں اسی کا نام آپ نے مستقبل قریب رکھ لیا۔ اوراس اتفاق رائے سے ہمارا مدعا ثابت ہوگیا۔ ہاں اگر آپ کے نزدیک کوئی زمانہ حقیقی معنوں کے رو سے بھی حال ہے۔ تو پہلے مہربانی فرما کر وقت کی تعریف فرمایئے میں تو ابتدا سے یہ سنتا آیا ہوں کہ وقت کی تعریف یہی ہے کہ الوقت مقدار غیر قار۔ یعنے وقت اسی مقدار کا نام ہے جس کو ذرہ قرار نہیں اب جب کہ وقت کو قرار نہیں تو حقیقی طور پر حال کیونکر پیدا ہوا۔ آپ سوچ کر جواب دیں اور شاہ ولی اللہ وغیرہ صاحبوں کا ترجمہ جو آپ نے پیش کیا ہے یہ ہمارے کچھ مضر نہیں۔ جب آپ خود مستقبل قریب کے قائل ہوگئے اسی طرح وہ بھی قائل ہیں اور آیت ۱؂ میں وہی ہماری طرف سے جواب ہے جو اس میں جواب ہے۔قولہ آیت ۲؂ استمراری معنے پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ اس جگہ عادت مستمرہ کا بیان کرنا مقصود نہیں یہ تو صرف وعدہ ہے اور امر موعود وعدہ کے بعد متحقق ہوتا ہے۔ اقول۔ یہ تو ہم نے تسلیم کیا کہ وعدہ ہے بلکہ یہ کہاں سے ثابت ہے کہ یہ وعدہ آنے والے لوگوں کیلئے ہی خاص ہے اور اس نعمت سے وہ لوگ بے نصیب ہیں جو پہلے گذر چکے ہیں یا حال میں مجاہدہ میں لگے ہوئے ہیں حضرت یہ وعدہ بھی استمراری ہے جو از منہ ثلاثہ پر مشتمل ہے۔ اس میں آپ ضد نہ کیجئے اور خدا تعالیٰ کے بندوں کو اس کے اس قانون قدرت سے جو مجاہدہ کرنے پر ضرور ہدایت مترتب ہوتی ہے محروم تصور نہ فرمایئے ورنہ مطابق آپ کے معنوں کے ہر یک زمانہ جو حال کے نام پر موسوم ہوگا اس نعمت سے بکلی محروم قرار دینا پڑے گا مثلاً ذرا غور کر کے دیکھئے کہ اس آیت کو نازل ہوئے تیرہ سو برس گذر گیا ہے اور کچھ شک نہیں کہ برطبق مضمون اس آیت کے ہر یک جو اس عرصہ میں مجاہدہ کرتا رہا ہے وہ وعدہ لنھدینّھم سے حصہ مقسومہ لیتا رہا ہے اور اب بھی لیتا ہے اور آئندہ بھی لے گا پھر آپ اس آیت کے استمراری معنوں سے جواز منہ ثلاثہ پر اپنا اثر ڈالتی چلی آئی ہے