یشاؔ بھہ فی اکثر خواصہ وصفاتہ جائز حسن تفسیر کبیرصفحہ ۶۸۹ جب آپ حیات مسیح کو ثابت کر دکھائیں گے تو پھر ان کا نزول بھی مانا جائے گا ورنہ بخاری میں وہ حدیثیں بھی ہیں جن میں ابن مریم کا ذکر کر کے اس سے مراد اس کا کوئی مثیل لیا گیا ہے۔قولہ آپ بخاری کی وہ حدیث مرفوع متصل بیان فرمایئے جس سے مسیح ابن مریم کی وفات ثابت ہوتی ہے۔ اقول میں تو وہ حدیث ازالہ اوہام میں لکھ چکا اور آخری پرچہ میں تنزلاً ثبوت وفات کے وقت وہ حدیث بھی لکھوں گا ابھی تو دیکھ رہا ہوں کہ آپ مسیح کی حیات کے بارے میں کون سی آیت قطعیۃ الدلالت پیش کرتے ہیں افسوس کہ اب تک آپ کچھ پیش نہ کرسکے۔ فقط مرزا غلام احمد پرچہ نمبر(۳) مولوی محمد بشیر صاحب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ حامدًا مصلّیًا مسلمًا ۔ قولہ۔ میں کہتا ہوں کہ اس بات کو ادنیٰ استعداد کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ بار ثبوت کسی امر متنازع فیہ کی نسبت اس فریق پر ہوا کرتا ہے کہ جو ایک امر کا کسی طور سے ایک مقام میں اقرار کر کے پھر کسی دوسری صورت اور دوسرے مقام میں اسی امر قبول کردہ کا انکار کردیتا ہے۔ اقول۔یہاں کلام ہے بچند وجوہ اول یہ کہ آپ قبل ادعاء مسیحیت براہین احمدیہ میں اقرار حیات مسیح کا کرچکے ہیں اور اب آپ حیات کا انکار کرتے ہیں تو موافق اپنی تعریف کے آپ مدعی ٹھہرے دوم خاکسار آپ سے ایک سوال کرتا ہے ایماناً اس کا جواب دیجئے وہ یہ ہے کہ آپ کا یہ خیال کہ مسیح علیہ السلام وفات پاچکے بعد آپ کے اس الہام کے پیدا ہوا ہے کہ مسیح فوت ہوگیا یا قبل اسکے اگر بعد پیدا ہوا ہے تو گویا یہ کہنا ہوا کہ الہام سے پہلے میرا اس خیال سے کچھ واسطہ نہ تھا اور یہ میرا دعویٰ نیا ہے جو وقت الہام کے پیدا ہوا سو اس وجہ سے آپ مدعی ہوئے اور ثبوت آپ کے ذمہ ہوا کہ آپ بعد اس اقرار کے کہ الہام سے پہلے مجھ کو اس خیال سے کچھ واسطہ نہ تھا پھر مخالف اپنے اس پہلے بیان