تبؔ تک آپ کے یہ معنے جس میں آپ منفرد ہیں کیونکر قطعی بن سکتے ہیں کوئی مبسوط تفسیر تو پیش کرو جو ان معنوں سے خالی ہے یا جس نے ان معنوں کو سب سے مقدم رکھا۔ تیرہ سو برس کی تفسیریں اکٹھی کرو اور ان پر نظر ڈال کر دیکھو کیا کوئی بھی آپکی طرح ان معنوں کو ناجائز ٹھہراتا ہے بلکہ سب کے سب آپ ہی کے معنوں کو خفیف ٹھہراتے ہیں۔قولہ قبل موتہم کی قراء ت پر بھی معنے دوم صحیح نہیں ہوتے اور یہ قراء ت ہمارے معنے کے مخالف بھی نہیں ہے کیونکہ اس قراء ت پر یہ معنے ہونگے کہ ہریک اہل کتاب اپنے مرنے سے پہلے زمانہ آئندہ میں مسیح پر ایمان لائے گا اور یہ معنے معنے اول کے ساتھ جمع ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ زمانہ آئندہ سے زمانہ نزول مسیح مراد لیا جاوے گا۔ اقول حضرت اس قراء ت سے مسیح ابن مریم کی زندگی کیونکر اور کہاں ثابت ہوئی آپ تو قبل موتہٖ کے ضمیر سے مسیح کی زندگی ثابت کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ مسیح کی موت سے پہلے لوگ اس پر ایمان لے آئیں گے اب جب کہ قبل موتہٖ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھیری گئی تو مسیح کی زندگی جس کا ثابت کرنا آپکا مدعا تھا کہاں اور کن الفاظ سے ثابت ہوئی مجرد ایمان لانے میں تو بحث نہیں بحث تو اس امر میں ہے کہ مسیح ابن مریم زندہ ہے یا نہیں۔ قولہ قراء ت قبل موتہم غیر متواترہ ہے۔ اقول ہم نے تفاسیر معتبرہ کے ذریعہ سے اس کی سند پیش کردی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی اسی کے موافق کہتے ہیں جمہور علماء کا اسی کو مقدم رکھتا آیا ہے یعنے اسی کے مطابق معنے کرتا چلا آیا ہے۔ پس اسی قدر ثبوت آپکے دعوے قطعیۃ الدلالت توڑنے کیلئے کافی ہے بھلا اگر آپ حق پر ہیں تو تیرہ سو برس کی تفسیروں میں سے کوئی ایسی تفسیر تو پیش کیجئے جو ان معنوں کی صحت پر معترض ہو تفسیر مظہری کا بیان آپ سن چکے ہیں۔ الہامی معنے جو میں نے کئے ہیں وہ درحقیقت ان معنوں کے معارض نہیں اگرچہ وہ بجائے خود ایک معنے ہیں چونکہ آیت ذوالوجوہ ہے اس لئے جب تک سخت تعارض نہ ہو ہریک معنی قبول کے لائق ہیں۔ قولہ آیت فلنولینّک میں پڑھنے سے یہ مراد نہیں کہ ہم تجھ کو ہاتھ پکڑ کر قبلہ کی طرف پھیرتے ہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم تجھ کو قبلہ کی طرف پھیرنے کا حکم کرتے ہیں اور شاہ ولی اللہ صاحب وشاہ رفیع الدین صاحب وشاہ عبدالقادر صاحب نے ترجمہ اس لفظ کا بمعنی مستقبل کیا ہے۔ مگر مستقبل قریب ہے۔ اقول۔ آپ اس بات کے تو قائل ہوگئے کہ یہ مستقبل بعید نہیں ہے بلکہ قریب ہے اور ایسا قریب کہ ایک طرف حکم ہوا اور ساتھ ہی اس کے عمل بھی ہوگیا تو گویا آپ ایک صورت سے ہمارے بیان کو مان گئے کیونکہ ہمارے نزدیک حال کسی ٹھہرنے والے زمانہ کا نام نہیں اور نہ زمانہ میں یہ خاصیت ہے کہ وہ ٹھہر سکے بلکہ وقت