اورؔ کوئی سات گھنٹہ تک ان کی موت کا قائل ہے اور کوئی تین دن تک جیسا کہ فتح البیان اور معالم التنزیل اور تفسیر کبیر و غیرہ تفاسیر سے ظاہر ہے تو پھر اس صورت میں اس وہم کی اور بھی بیخ کنی ہوتی ہے کہ مسیح کی موت سے پہلے سب اہل کتاب ایمان لے آویں گے۔ غرض آپ کا نور قلب شہادت دے سکتا ہے کہ جس قدر میں نے لکھا ہے آپ کے دعوے قطعیۃ الدلالت کے توڑنے کیلئے کافی ہے قطعیۃ الدلالت اس کو کہتے ہیں جس میں کوئی دوسرا احتمال پیدا نہ ہوسکے مگر آپ جانتے ہیں کہ اکابر صحابہ اور تابعین کے گروہ نے آپ کے معنے قبول نہیں کئے اور مفسرین نے جابجا اس آپ کی تاویل کو قِیْلَ کے لفظ سے بیان کیا ہے جو ضُعف روایت پر دلالت کرتا ہے۔ عام رائے تفسیروں کی یہی پائی جاتی ہے کہ قراء ت قبل موتہم کے موافق معنے کرنے چاہئیں اور ضمیر بہٖ کا نہ صرف حضرت عیسیٰ کی طرف بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور اللہ جلّ شانہٗ کی طرف پھیرتے ہیں۔ اب آپ کی رائے کی قطعیت کیونکر باقی رہ سکتی ہے۔ برائے خدا خوف الٰہی کو ہاتھ سے نہ دیں آپ کے منہ کی طرف صدہا آدمی دیکھ رہے ہیں اس زمانہ میں تمام لوگ اندھے نہیں فریقین کے بیانات شائع ہونے کے بعد پبلک خود فیصلہ کرلے گی لیکن جن لوگوں کے دلوں پر آپ کی رائے کا اثر پڑے گا اس کے ذمہ دار اور اس کے مؤاخذہ کے جوابدہ آپ ٹھہریں گے۔ اور میں نے جو آپ کے قاعدہ نون ثقیلہ کا نام جدید رکھا تو اس کی یہی وجہ ہے کہ اگر آپ کا یہ قاعدہ تسلیم کر لیا جائے تو نعوذ باللہ بقول آپ کے ابن عباس جیسے صحابی کو جاہل و نادان قرار دینا پڑتا ہے۔ اور قراء ت قبل موتہم کو خواہ نخواہ افترا قرار دینا پڑے گا اور آپ کے نحویوں کو معصوم عن الخطا ماننا پڑے گا آپ تو اللہ رسول کے متبع تھے۔ سیبویہ اور خلیل کے کب سے متبع ہوگئے اب میں آپ کے اقوال باقی ماندہ کو بطرز قولہ اقول کے رد کرتا ہوں۔
قولہ ایسے معنے کرنا فاسد ہے کہ یہ کہا جائے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا۔ کیونکہ یہ معنے نفس الامر میں تینوں زمانوں پر شامل ہیں۔
اقول جب کہ یہ معنی ابن عباس اور عکرمہ اور علی بن طلحہ وغیرہ صحابہ و تابعین کرتے ہیں اور قرآن ابی بن کعب انہی معنوں کے مطابق ہے تو کیا آپ کا یہ نحوی قاعدہ انکا اکابر کو جاہل قرار دے سکتا ہے اور کیا صدہا مفسرین بلکہ ہزارہا جو اب تک یہ معنے کرتے آئے وہ جاہل مطلق اور آپ کی نحو سے غافل تھے۔ جب تک ان ہزاروں اکابر کا نام آپ قطعی طور پر جاہل نہ قرار دے دیں