اہلؔ کتاب کو جو آنحضرت صلعم کے زمانہ میں موجود تھے۔ خواہ یہ کلمہ انہیں سے خاص ہویا خاص نہ ہو لیکن حقیقت کلام کا مصداق ٹھہرانے کیلئے حال سب زمانوں سے زیادہ استحقاق رکھتا ہے اور کوئی وجہ اس بات کی نہیں پائی جاتی کہ کیوں وہی اہل کتاب خاص کئے جائیں جو حضرت عیسیٰ کے نزول کے وقت موجود ہوں گے پھر صحیح تاویل وہی ہے جو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں یعنی ضمیربہٖ کی عیسیٰ کی طرف نہیں پھرتی بلکہ کتابی کی طرف پھرتی ہے اور اسی کے قراء ت ابی بن کعب مؤید ہے جس کو ابن المنذر نے ابی ہاشم سے لیا ہے اور نیز ُ عروہ سے بھی۔ اور وہ قراء ت یہ ہے۔ وان من اھل الکتب الا لیؤمننّ بہٖ قبل موتھم۔یعنی اہل کتاب اپنی موت سے پہلے محمدمصطفی صلی اللہ علیہ و سلم اور عیسیٰ پر ایمان لاویں گے۔ اسی کے قریب قریب ابن کثیر اور تفسیر کبیر اور فتح البیان و معالم التنزیل وغیرہ تفاسیر میں لکھا ہے۔ اب دیکھئے کہ حضرت عکرمہ اور حضرت ابن عباس اور علی بن طلحہ رضی اللہ عنہم یہی تأویل لیؤمننّ بہٖ کی کرتے ہیں کہ پہلی ضمیر محمدمصطفی صلعم اور عیسیٰ کی طرف پھرتی ہے اور دوسری ضمیر قبل موتہٖ اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے اور قراء ت قبل موتہم کس قدر وثوق سے ثابت ہوتی ہے پھر باوجودیکہ یہ تاویل صحابہ کرام کی طرف سے ہے اور بلاشبہ قراء ت شاذہ حدیث صحیح کا حکم رکھتی ہے مگر آپ اس کو نظر انداز کر کے اور نحوی قواعد کو اپنے زعم میں اس کے مخالف سمجھ کر تمام بزرگ اور اکابر قوم اور صحابہ کرام کی صریح ہجو اور توہین کررہے ہیں گویا آپ کے نحوی قواعد کی صحابہ کو بھی خبر نہیں تھی اور ابن عباس جیسا صحابی جس کیلئے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے فہم قرآن کی دعا بھی ہے وہ بھی آپ کے ان عجیب معنوں سے بے خبر رہا۔ آپ پر قراء ت قبل موتہم کا بھی وثوق کھل گیا ہے اب فرض کے طور پر اگر قبول کر لیں کہ ابن عباس اور علی بن طلحہ اور عکرمہ وغیرہ صحابہ ان معنوں کے سمجھنے میں خطا پر تھے اور قراء ت اُبیَ بن کعب بھی یعنی قبل موتھم کامل درجہ پر ثابت نہیں تو کیا آپ کے دعویٰ قطعیۃ الدلالت ہونے آیت لیؤمننّ بہٖ پر اس کا کچھ بھی اثر نہ پڑا۔ کیا وہ دعوے جس کے مخالف صحابہ کرام بلند آواز سے شہادت دے رہے ہیں اور دنیا کی تمام مبسوط تفسیریں باتفاق اس پر شہادت دے رہی ہیں اب تک قطعیۃ الدلالت ہے۔یاأخی اتّق اللّٰہ۔ ۱ اور جب ان روایتوں کے ساتھ وہ روایتیں بھی ملادیں جن میں انّی متوفّیک کے معنے ممیتک لکھے ہیں جیسے ابن عباس کی روایت اور وہب اور محمد بن اسحاق کی روایت کے کوئی ان میں سے عام طور پر حضرت مسیح کی موت کا قائل ہے اور کوئی کہتا ہے کہ تین گھنٹہ تک مر گئے تھے