لٰکنؔ کونہ مستفادًا من ھذہ الاٰیۃ و تأویل الاٰیۃ بارجاع الضمیر الثانی الی عیسٰی ممنوع انماھوزعم من ابی ھریرۃ لیس ذٰلک فی شیءٍ من الاحادیث المرفوعۃ و کیف یصح ھذا التاویل مع ان کلمۃ ان من اھل الکتاب شامل للموجودین فی زمن النبی صلی اللہ علیہ و سلم البتۃ سواء کان ھٰذا الحکم خاصًا بھم اولا فان حقیقۃ الکلام للحال ولا وجہ لان یراد بہٖ فریق من اھل الکتاب یوجدون حین نزول عیسٰی علیہ السلام فالتأویل الصحیح ھوالاول و یویدہ قراء ۃ اُبَی بن کعب اخرج ابن المنذرعن ابی ھاشم و عروۃ قال فی مصحف ابی بن کعب وان من اھل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتھم۔
ترجمہ۔ عکرمہ سے روایت ہے آیت لیؤمننّ بہٖ میں۔ بہٖ کی ضمیر حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف پھرتی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اللہ جلّ شانہٗ کی طرف راجع ہے اور مآل واحد ہے کیونکہ ایمان باللہ معتبر نہیں جب تک تمام رسولوں پر ایمان نہ لایا جائے اور محمد مصطفیٰ صلعم پر ایمان لانا عیسیٰ پر ایمان لانے کو مستلزم ہے۔ اور قبل موتہٖ کی یہ تفسیر ہے کہ ہر (ایک) کتابی اپنی موت سے پہلے عذاب کے فرشتوں کے دیکھنے کے بعد رسول اللہ صلعم پر ایمان لائے گا جب کہ اس کو ایمان کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ یہ علی بن طلحہ کی روایت ابن عباس سے ہے رضی اللہ عنہما۔ علی بن طلحہ کہتا ہے کہ ابن عباس کو کہا گیا کہ اگر کوئی چھت پر سے گر پڑے تو پھر وہ کیونکر ایمان لائے گا۔ ابن عباس نے جواب دیا کہ وہ ہوا میں اس اقرار کو ادا کرے گا پھر پوچھا گیا کہ اگر کسی کی گردن ماری جاوے تو وہ کیونکر ایمان لاوے گا تو ابن عباس نے کہا کہ اس وقت بھی اس کی زبان میں اقرار کے الفاظ جاری ہوجائیں گے۔ حاصل کلام یہ کہ کتابی نہیں مرے گا جب تک اللّٰہ جلّ شانہٗ اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم اور عیسٰی پر ایمان نہ لاوے بعض کہتے ہیں کہ کتابی فی حین من الاحیان ایمان لائے گا اگرچہ عذاب کے معائنہ کے وقت ہو اور بعض کہتے ہیں کہ دونوں ضمیریں عیسیٰ کی طرف پھرتی ہیں۔ اور یہ معنے لیتے ہیں کہ جب عیسیٰ نازل ہوگا تو تمام اہلِ ِ ملل اس پر ایمان لے آئیں گے اور کوئی منکر باقی نہیں رہے گا اور یہ تاویل ابوہریرہ سے مروی ہے لیکن آیت لیومننّ بہٖ سے یہ معنے جو ابوہریرہ نے خیال کئے ہیں ہرگز نہیں نکلتے اور قبل موتہٖ کی ضمیر عیسیٰ کی طرف کسی طرح پھر نہیں سکتی یہ صرف ابوہریرہ کا گمان ہے۔ احادیث مرفوعہ میں اس کا کوئی اصل صحیح نہیں پایا جاتا اور کیونکر یہ تاویل صحیح ہوسکتی ہے باوجودیکہ کلمہ اِنْ موجودین کو بھی تو شامل ہے یعنی ان