لوگؔ بلکہ نہایت کثرت سے لوگ اسی طرف گئے ہیں کہ آیت اِلّا لیؤمننّ بہٖ میں موتہٖ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے اور اسی کی مؤید قراء ت قبل موتہم ہے۔
پھر تفسیرمدارک میں اسی آیت کی تفسیر میں لکھا ہے والمعنی مامن الیھود والنصارٰی احد الا لیؤمننّ قبل موتہ بعیسٰی وبانہ عبداللہ و رسولہ وروی ان الضمیر فی بہ یرجع الی اللّٰہ اوالی محمد صلی اللہ علیہ و سلم والضمیر الثانی الی الکتابییعنی اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ یہود اور نصاریٰ میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جو اپنی موت سے پہلے عیسیٰ پر ایمان نہ لاوے اور اس کی رسالت اور عبدیت کو قبول نہ کرے اور یہ بھی روایت ہے کہ ضمیر بہٖکی اللہ کی طرف پھرتی ہے اور یہ بھی روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف پھرتی ہے۔ ایسا ہی بیضاوی میں زیر آیت لیؤمننّ بہٖ یہ تفسیر کی ہے۔ والمعنٰی مامن الیھود و النصارٰی احد الا لیؤمننّ بان عیسٰی عبد اللہ و رسولہ قبل ان یموت ویؤیّد ذالک ان قریء الا لیومنن بہ قبل موتھم وقیل الضمیران لعیسٰی ۔ یعنی اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ یہود اور نصاریٰ میں سے ایسا کوئی نہیں جو اپنی موت سے پہلے عیسیٰ پر ایمان نہ لاوے اور قبل موتہم کی قراء ت انہیں معنوں کی مؤید ہے اور ایک قول ضعیف یہ بھی ہے کہ دونوں ضمیریں عیسیٰ کی طرف پھرتی ہیں۔
اور تفسیر مظہری کے صفحہ ۷۳۱ اور ۷۳۲ میں زیر آیت موصوفہ یعنی لیومنن بہ کے لکھا ہے۔روی عن عکرمۃ ان الضمیر فی بہ یرجع الی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وقیل راجعۃ الی اللّٰہ عزّوجل والمآل واحد فان الایمان باللّٰہ لا یعتد مالم یؤمن بجمیع رسلہ والایمان بمحمد صلی اللّٰہ علیہ و سلم یستلزم الایمان بعیسٰی علیہ السلام۔ قبل موتہٖ ای قبل موت ذالک الاحد من اھل الکتٰب عند معائنۃ ملائکۃ العذاب عند الموت حین لاینفعہ ایمانہ۔ ھذا روایۃ علی بن طلحۃ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال فقیل لابن عباس أَرَأَیْتَ ان خرمن فوق بیت قال یتکلم فی الھواء فقیل أَرَأَیْتَ ان ضرب عنقہ قال تلجلج لسانہ والحاصل انہ لایموت کتابی حتی یومن باللّٰہ عزّوجل وحدہ لاشریک لہ وان محمدا صلی اللہ علیہ و سلم عبدہ و رسولہ وان عیسی عبداللہ و رسولہ قیل یومن الکتابی فی حین من الاحیان ولو عند معاینۃ العذاب۔ وقال الضمیران لعیسٰی والمعنی انہ اذا نزل امن بہ اھل الملل اجمعون ولایبقٰی احد الا لیومننّ بہٖ وھٰذا التاویل مروی عن ابی ھریرۃ