کا وؔ قت ہو جب کہ ایمان بوجہ انقطاع وقت تکلیف کے کچھ نفع نہیں دیتا۔ اور شہر بن حو شب سے روایت ہے کہ مجھے حجاج نے کہا کہ ایک آیت ہے کہ جب کبھی میں نے اس کو پڑھا تو اس کی نسبت میرے دل میں ایک خلجان گذرا یعنی یہی آیت اور خلجان یہ ہے کہ مجھے کتابی اسیر قتل کرنے کیلئے دیا جاتا ہے اور میں یہود یا نصاریٰ کی گردن مارتا ہوں اور میں اس کے مرنے کے وقت یہ نہیں سنتا کہ میں عیسٰی پر ایمان لایا۔ ابن حو شب کہتا ہے کہ میں نے اس کو کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ جب یہودیوں پر جان کندن کا وقت آتا ہے تو فرشتے اس کے منہ پر اور پیچھے مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے دشمن خدا تیرے پاس عیسیٰ نبی آیا اور تو نے اس کی تکذیب کی پس وہ کہتا ہے کہ اب میں عیسیٰ پر ایمان لایا کہ وہ بندہ اور پیغمبر ہے اور نصرانی کو فرشتے کہتے ہیں کہ تیرے پاس عیسیٰ نبی آیا اور تونے اس کو خدا اور خدا کا بیٹا کہا تب وہ کہتا ہے کہ اب میں نے قبول کیا کہ وہ خدا کا بندہ اور رسول ہے۔ اور ابن عباس سے روایت ہے کہ اس نے ایک موقعہ پر یہی تفسیر کی تب عکرمہ نے اس کو کہا کہ اگر ناگاہ کسی شخص کی گردن کاٹ دی جائے تو کس وقت اور کیونکر وہ عیسیٰ کی نبوت کااقرار کرے گا۔ تب ابن عباس نے کہا کہ اس کی اس وقت تک جان نہیں نکلے گی جب تک اس کے لبوں پر کلمہ اقرار نبوت مسیح کا جاری نہ ہو لے پھر عکرمہ نے کہا کہ اگر وہ گھر کی چھت پر سے گرے یا َ جل جائے یا کوئی درندہ اس کو کھا لیوے تو کیا پھر بھی اقرار نبوت عیسیٰ کا اس کو موقعہ ملے گا تب ابن عباس نے جواب دیا کہ وہ گرتے گرتے ہوا میں یہ اقرار کردے گا۔ اور جب تک یہ اقرار نہ کر لے تب تک اس کی جان نہیں نکلے گی اور اسی پر دلالت کرتی ہے قراء ت اُبَی بن کعب کی۔ الّا لَیُؤْمِنَنَّ بہٖ قبل موتھم بِضَمِّ النُّون یعنی دوسری قراء ت میں بجائے قبل موتہ کے قبل موتھم لکھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت موتہٖ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے نہ حضرت عیسیٰ کی طرف۔ اور ایک قول ضعیف یہ بھی ہے کہ دونوں ضمیریں بہٖاور موتہٖ کی حضرت عیسٰی کی طرف پھرتی ہیں جس کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عیسیٰ کے نزول کے بعد تمام اہل کتاب ان کی نبوت پر ایمان لے آویں گے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ضمیر بہ ٖ کی اللہ تعالیٰ کی طرف پھرتی ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف ضمیر بہٖ کی پھرتی ہے۔
پھر نووی میں یہ عبارت لکھی ہے ذھب کثیرون بل اکثرون الی ان الضمیر فی ٰایۃ الا لیؤمننّ بہٖ یعود الی اھل الکتب ویویّد ھٰذا ایضًا قراء ۃ من قرأ قبل موتہم۔ یعنی بہت سے