کوؔ بھی ان میں داخل کردیا جائے ورنہ آپ کبھی اور کسی صورت میں قطعیت کا فائدہ حاصل نہیں کرسکتے اور کوئی تقویٰ شعار علماء میں سے اس قطعیت کے دعوے میں آپ کے ساتھ شریک نہیں ہوگا اور کیونکر شریک ہو۔ شریک تو تب ہو کہ بہت سے بزرگوں اور صحابہ کو جاہل قرار دیوے اور نبی صلعم پر بھی اعتراض کرے۔ سُبحانہٗ ھٰذا بُھتان عظیم۔ اب میں آپ پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کیا اکابر مفسرین نے اس آیت کو حضرت عیسیٰ کے نزول کیلئے قطعیۃ الدلالت قرار دیا ہے یا کچھ اور ہی معنے لکھے ہیں۔ سو واضح ہو کہ کشّاف صفحہ ۱۹۹ میں لیؤمننّ بہٖ کی آیت کے نیچے یہ تفسیر ہے جملۃ قسمیۃ واقعۃ صفۃ لموصوف محذوف تقدیرہ وان من اھل الکتٰب احد الّا لیؤمننّ بہ قبل موتہ بعیسٰی وبانہ عبداللہ و رسولہ یعنی اذا عاین قبل ان تزھق روحہ حین لاینفعہ ایمانہ لانقطاع وقت التکلیف وعن شھر بن حو شب قال لی الحجاج ٰایۃ ما قراء تھا الا تخالج فی نفسی شیء منھا یعنی ھٰذہ الآیۃ انی اضرب عنق الا سیرمن الیھود والنصارٰی فلا اسمع منہ ذالک فقلت ان الیھودی اذا حضرہ الموت ضربت الملا ئکۃ دبرہ ووجھہ وقالوا یاعدواللہ اتاک عیسٰی نبیا فکذبت بہ فیقول آمنت انہ عبد نبی و تقول للنصرانی اتاک عیسیٰ نبیا فزعمت انہ اللّٰہ اوابن اللّٰہ فیومن انہ عبداللہ و رسولہ۔ و عن ابن عباس انہ فسرہ کذٰلک فقال لہ عکرمۃ فان اتاہ رجل فضرب عنقہ۔ قال لا تخرج نفسہ حتی یتحرک بھا شفتیہ قال عکرمۃ وان خرمن فوق بیت اواحترق اواکلہ سبع قال یتکلم بھا فی الھواء ولا تخرج روحہ حتی یومن بہ و تدل علیہ قراء ۃ اُبَیّ الا لیومننّ بہ قبل موتہم بضم النون علی معنی وان منھم احد الا لیومننّ قبل موتھم۔ وقیل الضمیران لیعسٰی یعنی وان منھم احدالالیومننّ یعنی قبل موت عیسٰی اھم اھل الکتٰب الذین یکونون فی زمان نزولہ۔ روی انہ ینزل فی اٰخر الزمان فلایبقٰی احد من اھل الکتب الایومن بہ حتی تکون ملۃ واحدۃ وھی ملۃ الاسلام و قیل الضمیر فی بہ یرجع الی اللہ تعالٰی وقیل الٰی محمدصلی اللہ علیہ و سلم۔ ترجمہ۔ یعنی لیومنن بہ جملہ قسمیہ ہے اور آیت موصوف محذوف کے لئے صفت ہے اور محذوف کو ملانے کے ساتھ اصل عبارت یوں ہے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے عیسیٰ پر ایمان نہ لا وے اور نیز اس بات پر ایمان لاوے کہ وہ اللہ کا رسول اور اس کا بندہ ہے یعنی جس وقت جان کندن