ملکؔ عرب میں جا کر مشاہدہ کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ کس قدر پہلی زبانوں سے اب عربی زبان میں فرق آگیا ہے یہاں تک کہ اقعد کی جگہ اگد بولا جاتا ہے ایسا ہی کئی محاورات بدل گئے ہیں۔ اب معلوم نہیں کہ جس زمانہ میں صرف و نحو کے قواعد مرتب کرنے کیلئے توجہ کی گئی وہ زمانہ کس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ سے فرق کر گیا تھا اور کیا کچھ محاورات میں تبدل واقعہ ہوگیا تھا۔نحوی اور صرفی اس بات کے بھی تو قائل ہیں کہ باوجود ترتیب قواعد کے ایک حصہ کثیرہ خلاف قیاس الفاظ اور خلاف قیاس ترتیب الفاظ کا بھی ہے۔ جس کی حد ابھی غیر معلوم ہے جو ابھی تک کسی قاعدہ کے نیچے نہیں آسکا۔ غرض یہ صرف اور نحو جو ہمارے ہاتھ میں ہے صرف بچوں کو ایک موٹی قواعد سکھلانے کیلئے ہے اس کو ایک رہبر معصوم تصور کر لینا اور خطا اور غلطی سے پاک سمجھنا انہیں لوگوں کا کام ہے جو بجز اللہ اور رسول کے کسی اور کو بھی معصوم قرار دیتے ہیں۔ اللہ جلّ شانہٗ نے ہمیں یہ فرمایا ہے ۱؂ یعنی اگر تم کسی بات میں تنازع کرو تو اس امر کا فیصلہ اللہ اور رسول کی طرف رد کرو۔ اور صرف اللہ اور رسول کو حَکم بناؤ نہ کسی اور کو۔ اب یہ کیونکر ہوسکے کہ ناقص العلم صرفیوں اور نحویوں کو اللہ اور رسول کو چھوڑ کر اپنا حَکم بنایا جائے۔ کیا اس پر کوئی دلیل ہے۔ تعجب کہ متبع سنت کہلا کر کسی اور کی طرف بجز سر چشمہ طیبہ مطہرہ اللہ رسول کے رجوع کریں۔ آپ کو یاد رہے کہ میرا یہ مذہب نہیں ہے کہ قواعد موجودہ صرف و نحو غلطی سے پاک ہیں یا بہمہ وجوہ متمم و مکمل ہیں۔ اگر آپ کا یہ مذہب ہے تو اس مذہب کی تائید میں تو کوئی آیت قرآن کریم پیش کیجئے یا کوئی حدیث صحیح دکھلائیے ورنہ آپ کی یہ بحث بے مصرف فضول خیال ہے حجت شرعی نہیں میں ثابت کرتا ہوں کہ اگر فی الحقیقت نحویوں کا یہی مذہب ہے کہ نون ثقیلہ سے مضارع خالص مستقبل کے معنوں میں آجاتا ہے اور کبھی اور کسی مقام اور کسی صورت میں اس کے برخلاف نہیں ہوتا تو انہوں نے سخت غلطی کی ہے۔ قرآن کریم ان کی غلطی ظاہر کررہا ہے اور اکابر صحابہ اس پر شہادت دے رہے ہیں۔ حضرت انسانوں کی اور کوششوں کی طرح نحویوں کی کوششیں بھی خطا سے خالی نہیں آپ حدیث اور قرآن کو چھوڑ کر کس جھگڑے میں پڑ گئے۔ اور اس خیال خام کی نحوست سے آپ کو تمام اکابر کی نسبت بدظنی کرنی پڑی کہ وہ سب تفسیر آیت لیؤمننّ بہٖ میں غلطی کرتے رہے ابھی میں انشاء اللہ القدیر آپ پر ثابت کروں گا کہ آیت لَیؤمننّ بہٖ آپ کے معنوں پر اس صورت میں قطعیۃ الدلالت ٹھہر سکتی ہے کہ ان سب بزرگوں کی قطعیۃ الجہالت ہونے پر فتویٰ لکھا جائے اور نعوذ باللہ نبی معصوم