کےؔ فیصلہ کیلئے خاکسار آپ کے دو معتقد خاص حکیم نور الدین صاحب اور مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی کو حکم تسلیم کرتا ہے کہ آپ میری اس کلام کا مطلب بالکل نہیں سمجھے ۔ قولہیا حضرت آپ ان آیتوں پر متوجہ ہوں الی قولہ اب دیکھئے کہ قرآن مجید میں اللہ جلّ شانہٗ کا صاف وعدہ ہے کہ قیامت کے دن تک دونوں فرقے متبعین اور کفار باقی رہیں گے۔اقول اس میں کلام ہے بدووجہ اوّلیہ کہ آیت ۱ میں صاف وعدہ ہے کہ قبل موت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب اہل کتاب مومن ہوجائیں گے پس یہ آیت مخصص ہے آیت ۲کے۔ دوم احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ قبل قیامت سب شریر رہ جائیں گے جن پر قیامت قائم ہوگی۔ پس معلوم ہوا کہ آیت عام مخصوص البعض ہے۔ قولہ پھر اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ ۳ اب ظاہر ہے کہ اگر قیامت کے پہلے ہی ایک فرقہ ان دونوں میں سے نابود ہوجاوے تو پھر عداوت کیونکر قائم رہے گی ۔اقول یہ آیت بھی عام مخصوص البعض ہے۔ مخصص اس کی آیت ہے۔ قولہ۔ دوسری آیت آپ نے پیش کی ہے ۔کہ ۴ اقولکہلکے معنے میں فی الواقع اہل لغت نے اختلاف کیا ہے۔ اسی واسطے اس آیت کو قطعیۃ الدلالۃ لذاتھا نہیں کہا گیا بلکہ قطعیۃ الدلالۃ لغیرھا کہا گیا یعنی بانضمام آیت جو قطعیۃ الدلالت ہے یہ بھی قطعی ہوجاتی ہے اور آپ نے جو شبہ کے قطعیۃ الدلالت ہونے میں کیا ہے وہ بالکلیہ مرتفع ہوگیا۔ قولہ صحیح بخاری میں دیکھئے جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب ہے اس میں کھل کے معنے جو ان مضبوط کے ہیں۔اقول عبارت بخاری یہ ہے وقال مجاھد الکہل الحلیم انتھی۔ آپ پر واجب ہے کہ یہ امر ثابت کیجئے کہ اس سے جوان مضبوط کس طرح سمجھا جاتا ہے۔ قولہ حضرت اس رَافِعُکَ اِلَیَّ میں جو رفع کا وعدہ دیا گیا ہے یہ وہی وعدہ تھا جو آیت بَلْ رَفَعَہُ اللّٰہُ میں پورا کیا گیا۔اقول مسلم ہے کہ آیت اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ میں جو وعدہ تھا وہ آیت بل رفعہ اللہ میں پورا کیا گیا۔ لیکن انی متوفیک میں موت مراد ہونا غیر مسلم ہے جیسا کہ اس کی تقریر تحریر اول میں لکھ چکا ہوں اور آپ نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا۔ قولہ نزول مسیح موعود سے کس کو انکار ہے۔ اقول آپ کو نزول عین عیسیٰ ابن مریم سے انکار ہے اور حالانکہ تحریر اول میں لکھا گیاہے کہ حدیث میں لفظ ابن مریم جس کے معنے حقیقی عین ابن مریم ہے موجود ہے